برطانیہ اس ویک اینڈ گرین وچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) پر واپس چلا جائے گا کیونکہ رائل آبزرویٹری گرین وچ کی جانب سے تصدیق شدہ دیرینہ قوانین کے مطابق گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور برطانیہ کا دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اس کے بعد دستی ٹائم پیسز اور گھریلو آلات کو دستی طور پر ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہوگی جبکہ رات میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک اضافی گھنٹہ کام کرنا ہوگا۔
برٹش سمر ٹائم وہ مدت ہے جب برطانیہ کی گھڑیاں جی ایم ٹی سے ایک گھنٹہ آگے ہوتی ہیں جو بہار میں شروع ہوتی ہے اور خزاں میں ختم ہوتی ہے۔ یہ انتظام شام کے اوقات میں زیادہ دن کی روشنی فراہم کرتا ہے جب تک کہ خزاں میں گھڑی پیچھے نہ ہو جائے یا معیاری وقت میں تبدیل نہ ہو جائے۔
گھڑی کی 2 بار تبدیلی خاص طور پر زیادہ سے زیادہ قدرتی روشنی کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہ روایت پہلی بار پہلی جنگ عظیم کے دوران متعارف کرائی گئی تھی جب جرمنی نے سنہ 1916 میں توانائی کی کھپت کو کم کرنے کی کوشش میں اپنی گھڑیاں آگے کیں۔
مزید پڑھیے: برطانیہ فلسطینیوں کی حمایت میں سامنے آگیا، اسرائیلی آبادکاری کے خلاف پابندیوں کا اعلان
برطانیہ اور یورپ کے بیشتر حصے اس سال 25 اکتوبر کو اپنی گھڑیاں پیچھے کریں گے تاہم شمالی امریکا عام طور پر اس ایڈجسٹمنٹ کو نومبر کے پہلے اتوار تک مؤخر کر دیتا ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے وقت میں فرق
واضح رہے کہ 25 اکتوبر سے برطانیہ میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے ہونے کے بعد پاکستان اور برطانیہ کے وقت میں فرق بڑھ کر 5 گھنٹے ہو جائے گا۔ یعنی 25 اکتوبر کے بعد جب پاکستان میں رات 8 بجیں گے تو لندن کی گھڑیوں میں دوپہر 3 بج رہے ہوں گے جبکہ اس سے قبل یہ فرق 4 گھنٹے تھا۔
مزید پڑھیں: ون ڈے سہ ملکی سیریز کے لیے انگلینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی
یہ گرین وچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) 25 اکتوبر 2026 سے 28 مارچ 2027 تک نافذ رہے گا۔ 28 مارچ 2027 کو برطانیہ میں دوبارہ گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر کے برٹش سمر ٹائم شروع کر دیا جائے گا جس کے بعد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان وقت کا فرق دوبارہ 4 گھنٹے ہو جائے گا۔











