برلن میں صدر آصف علی زرداری اور جرمن ٹیکنالوجی جائنٹ سیمنز کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ڈینیئل فرش کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں کمپنی نے پاکستان کے صحت کے شعبے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے معاہدوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔
جرمن ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز نے پاکستان کے موجودہ ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون بڑھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے جس کے لیے کمپنی کے نمائندے جلد پاکستان آ کر مقامی پارٹنرزکے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:’معاشرے کے معیار کا تعین بچوں کے ساتھ سلوک سے ہوتا ہے‘، جبری مشقت کے خلاف عالمی دن پر صدر آصف علی زرداری کا پیغام
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق سیمنز کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ڈینیئل فریش نے ہفتے کے روز برلن میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ کمپنی کے دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔
صدر زرداری جمعرات کو 3 روزہ دورے پر جرمنی روانہ ہوئے تھے۔ پاکستان اور جرمنی اس سال سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں۔
President Zardari Calls for Absorption of Research & Development, Smart Solutions to drive Infrastructure Overhaul & Improved Public-Centric Services*
Berlin:President Asif Ali Zardari has reiterated for adoption of research based technogically driven solutions to visibly improve health services in Pakistan. Talking to Siemens health company executives, the President stated that Pakistan highly values German industrial, technological and infrastructural support by organisations like Siemens health division that has physical presence in Pakistan for many decades with over 100 employees in three major cities of Pakistan including Karachi.
Siemens’ Executive Vice President Daniel Frisch and Veronika Pfister, head of Siemens government affairs, called on the President in Berlin today.
The Siemens delegation told the President that their representatives will soon visit Pakistan to sign MoUs with their partners in capacity building and technological domains in the health industry of Pakistan. The delegation told the President that the technological infrastructure cooperation of the company extends to cancer, stroke and other diseases.The President noted with satisfaction that long-awaited mutual desire of expanded and augmented bilateral partnership between Pakistan and Germany has been mutually affirmed in bilateral meeting with President Frank-Walter Steinmeier of Germany yesterday. President Zardari highly appreciated Siemens’ productive presence in Pakistan since last more than two decades.
President Asif Ali Zardari viewed that affordable, yet qualified and highly standardised health service delivery, stays fundamental to enable each and every citizen to realise unhindered potential. We strive for broadened and all-inclusive provision of quality healthcare, particularly for poverty-stricken people in remote areas, President Zardari said.
Executive Vice President Siemens acknowledged the difference witnessed as a positive outcome of the Sindh Health Department’s rationally networked steps. He briefed the President on the accomplishments and support his organisation has brought in Pakistan. The Executive Vice President Siemens expressed his readiness and desire to enhance existing support through innovative solutions and technological applications for strengthening existing healthcare infrastructure of Pakistan.
President Asif Ali Zardari encouraged the eagerness of Siemens to further deepen its collaboration in Pakistan. He also suggested to diversify Siemens’ investment, considering its internationally established competencies, across other social and industrial sectors of Pakistan. President Asif Zardari assured fullest institutional cooperation in this regard through the Platform of Special Investment Facilitation Council (SIFC).
Chief Minister Sindh Murad Ali Shah, Senator Saleem Mandviwallah, Sindh Provincial ministers Sharjeel Memon, Jam Khan Shoro, and Ambassador of Pakistan to Germany Salman Sharif were present during the meeting.
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 24, 2026
ایوانِ صدرسے جاری بیان کے مطابق ڈینیئل فریش نے صدر کو پاکستان میں کمپنی کی کامیابیوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے صحت کی سہولتوں میں آنے والی بہتری کو سندھ محکمۂ صحت کے ’منطقی طور پر مربوط اقدامات‘ کا مثبت نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے جدید حل اور ٹیکنالوجی کے اطلاق کے ذریعے پاکستان کے موجودہ ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے جاری تعاون کو مزید بڑھانے کی آمادگی اور خواہش کا اظہار کیا۔
جلد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
ایوانِ صدر کے مطابق سیمنز کے وفد نے صدر کو بتایا کہ کمپنی کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ وہ ملک کے ہیلتھ سیکٹر میں صلاحیت سازی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم اوایوز) پر دستخط کریں گے۔
وفد کا کہنا تھا کہ کمپنی کا ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر تعاون کینسر، فالج اور دیگر بیماریوں تک پھیلا ہوا ہے۔
ریسرچ اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل ناگزیر
صدر زرداری نے ملک میں صحت کی خدمات بہتر بنانے کے لیے تحقیق پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے حل اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سیمنز کی ہیلتھ ڈویژن جیسے اداروں کی جانب سے جرمن صنعتی، تکنیکی اور انفراسٹرکچر معاونت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
یہ ڈویژن کئی دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے اور اس کے 3 بڑے شہروں میں 100 سے زیادہ ملازمین کام کر رہے ہیں۔
صدر نے پاکستان میں سیمنز کی موجودگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور برلن کے درمیان ’وسیع اور مضبوط تر دوطرفہ شراکت داری کی دیرینہ باہمی خواہش‘ کی توثیق گزشتہ روز جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر سے ملاقات میں بھی ہو چکی ہے۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ’سستی، مگر معیاری اور اعلیٰ درجے کی معیاری صحت خدمات کی فراہمی ہر شہری کو اپنی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار کے قابل بنانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ ہم معیاری صحت کی سہولتوں کی وسیع اور ہمہ گیر فراہمی کے لیے کوشاں ہیں، بالخصوص دور دراز علاقوں کے غریب عوام کے لیے‘۔
سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب
صدر زرداری نے سیمنز کو پاکستان کے ساتھ مزید روابط بڑھانے اور ملک بھر میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی ترغیب دی۔
انہوں نے کمپنی کی اعلیٰ قیادت کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے ’مکمل ادارہ جاتی تعاون‘ کی یقین دہانی بھی کرائی۔ یہ کونسل 2023 میں ملک میں سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف اور سندھ کے صوبائی وزرا بھی موجود تھے۔
جرمن صدر سے ملاقات میں افغانستان اور دفاعی معاہدے پر گفتگو
اس سے ایک روز قبل جمعہ کو صدر زرداری اور ان کے جرمن ہم منصب نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اشٹائن مائر نے علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے ’بڑھتے ہوئے سفارتی کردار‘ کی تعریف کی۔
دونوں رہنماؤں نے افغانستان سے متعلق چیلنجز پر بھی بات کی۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کو ’افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں‘، تاہم وہ دہشتگردوں کو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستانی شہریوں پر حملوں اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:صدرآصف علی زرداری کا دورہ جرمنی، سیمنز کا شعبۂ صحت میں تعاون، مفاہمتی یادداشتوں کے لیے جلد پاکستان آنے کا اعلان
ایوانِ صدر کے مطابق جرمن صدر نے ان 500 افغان باشندوں کی تصدیق میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کی تعریف کی جنہیں ’جرمنی واپس بھیجا جانا تھا‘۔ انہوں نے گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ کے عرصے میں ملینز افغان باشندوں کے لیے پاکستان کی انسانی امداد کو بھی سراہا۔
ایوان صدر کے بیان کے مطابق اشٹائن مائر نے مکہ دفاعی معاہدے میں بھی نمایاں دلچسپی’ لی۔ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی ڈیٹرنس (مشترکہ دفاعی تحفظ) ہے۔
تعلقات اور تجارت
پاکستان اور جرمنی کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات 15 اکتوبر 1951 کو قائم ہوئے تھے۔ دونوں ممالک معیشت، دفاع، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں فعال تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جرمنی کو پاکستانی برآمدات گزشتہ مالی سال 26-2025 کے ابتدائی 10 ماہ میں 3.53 فیصد کمی کے ساتھ 1.369 ارب ڈالر رہیں۔ اس سے پچھلے سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 1.419 ارب ڈالر تھیں۔











