ایم کیو ایم پاکستان میں اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کی خبروں کے درمیان سابق میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر سینیئر رہنماؤں کی دوبارہ سرگرمیاں کسی نئی سیاسی صف بندی کی جانب اشارہ کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات پارٹی انتخابات کے بغیر ختم نہیں ہوں گے، مصطفیٰ کمال
ایم کیو ایم پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف دھڑوں کے درمیان اندرونی اختلافات، اجلاسوں میں عدم دلچسپی اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تاثر بن رہا تھا کہ تنظیمی سطح پر اہم فیصلے محض چند اعلیٰ عہدیداروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ پارٹی کے دیرینہ اور سینیئر رہنما رفتہ رفتہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں سابق میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر سینیئر رہنماؤں کی تنظیم کے اہم اجلاسوں، پریس کانفرنسوں اور عوامی ملاقاتوں میں اچانک دوبارہ متحرک شرکت نے سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اس نئی پیشرفت کو پارٹی کے وجود، مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل اور کراچی کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط بنانے کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
ماضی کی غلطیوں کا اعتراف اور یکجہتی کی کوشش
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی حسان صابر کا کہنا ہے کہ وسیم اختر اور دیگر سینیئر رہنما پہلے بھی پارٹی کے ساتھ تھے۔ اب ان کی جانب سے تنظیمی سرگرمیوں میں دوبارہ بھرپور شرکت کا آغاز اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ماضی کی سیاسی اور تنظیمی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا پارٹی کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔
تنظیمی ڈھانچے کو متحرک کرنے کی کوشش
ایم کیو ایم پاکستان کے ایک ذرائع نے بتایا کہ انتخابی اور بلدیاتی میدان میں متوقع چیلنجز کے پیش نظر پارٹی قیادت کو یہ احساس ہوا کہ اگر سینیئر اور تاحیات کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا تو دھڑے بندی تنظیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی احساس کے تحت ناراض اور غیر متحرک ارکان کو دوبارہ تنظیمی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
کراچی کے بنیادی مسائل پر نیا بیانیہ
دوسری جانب ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت نے حالیہ پریس کانفرنسوں اور بیانات میں سندھ کے انتظامی یونٹس اور کراچی کے حقوق کے معاملے پر ایک بار پھر جارحانہ مؤقف اختیار کیا ہے جس کا مقصد پارٹی کے بیانیے کو دوبارہ عوامی سطح پر مقبولیت دلانا اور شہری مسائل کے حوالے سے اپنی سیاسی جگہ مستحکم کرنا ہے۔
اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کی حقیقت
سینیئر صحافی محمد فاروق سمیع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کے درمیان حالیہ قربتیں وقتی ثابت ہو سکتی ہیں تاہم ان کا مستقل ہونا فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
ان کے مطابق سینیئر رہنماؤں کے تحفظات کی سب سے بڑی وجوہات میں وفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد، گورنر سندھ سے متعلق فیصلے اور پارٹی کے داخلی معاملات میں مرکزی قیادت کی جانب سے مشاورت کے بغیر کیے جانے والے فیصلے شامل ہیں۔
مرکزی قیادت اور رابطہ کمیٹی کا کردار
فاروق سمیع کے مطابق خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال جیسے رہنماؤں کے اپنے اپنے اثر و رسوخ کے باعث رابطہ کمیٹی کے اندر بھی ایک غیرمرئی تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کے خیال میں یہ تقسیم اور دوری مزید بڑھ سکتی ہے جب تک پارٹی میں انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے جاتے۔
مزید پڑھیے: کراچی کی تباہی کے ذمہ دار، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں ہیں، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر
ان کا کہنا ہے کہ سینیئر رہنماؤں کا دوبارہ ایک میز پر بیٹھنا تنظیمی مرکزیت برقرار رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش دکھائی دیتا ہے۔
اقتدار کے اتحاد اور وفاقی حکومت پر دباؤ
سینیئر صحافی ارمان صابر کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ وسیم اختر سمیت دیگر سینیئر رہنما ماضی قریب میں وفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد اور حکومتی شراکت داری پر سخت سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ اب سینیئر رہنماؤں کی صف بندی اور اجلاسوں میں ان کی متحرک شرکت کے بعد یہ امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ پارٹی کے اندر وفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد پر ازسرنو جائزے کے مطالبات زور پکڑیں۔
ارمان صابر کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے وفاقی حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کراچی کے معاملات اور تنظیمی عمل درآمد کے حوالے سے کسی بھی فیصلے میں پارٹی کو نظر انداز کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق ایم کیو ایم کو خود بھی اس بات کا احساس ہے کہ اندرونی اختلافات اسے کئی اہم معاملات پر کمزور کر رہے ہیں جن میں نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق اس کا دوٹوک مؤقف بھی شامل ہے۔
مجموعی طور پر وسیم اختر اور ان کے ہم خیال سینیئر رہنماؤں کا دوبارہ منظر عام پر آنا محض کسی رسمی اجلاس میں شرکت کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایم کیو ایم پاکستان کے اندر طاقت کا توازن بحال کرنے اور مستقبل کی سیاسی صف بندی کے لیے ایک اہم کوشش دکھائی دیتی ہے۔









