خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑے، دہشتگردوں کو دوبارہ بلانے کا خمیازہ عوام نے بھگتا، وزیراعظم

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث حکومت کو مجبوری میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ 2018 تک خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہوچکا تھا، تاہم بعد میں دہشتگردوں کو دوبارہ بلایا گیا، جس سے امن و امان کو شدید نقصان پہنچا اور صوبے کے عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

گورنر ہاؤس پشاور میں خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں:مویشیوں کی ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری، وزیراعظم شہباز شریف نے اہم ہدایات جاری کردیں

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، ماؤں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں سے ملک میں امن قائم ہوا تھا، لیکن ان قربانیوں کا احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی نہیں ہوسکتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں خیبر پختونخوا میں تعلیم، صحت، امن اور عوامی فلاح کے امور نظر انداز کیے گئے۔ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی 5 ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں ہوئیں، سیف سٹی منصوبہ نامکمل رہا اور محکمہ انسداد دہشتگردی اور پولیس کی تربیت پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ انہی وجوہات کی بنا پر حالیہ برسوں میں دہشت گردی دوبارہ بڑھ گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے لیے قریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ تمام صوبوں نے اتفاق کیا تھا کہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صف اول پر ہے اور اسے اضافی وسائل ملنے چاہییں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے وسائل اور قربانیوں کے باوجود دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ اڑھائی سال میں ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دن رات محنت کی اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے معیشت مستحکم ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت خیبر پختونخوا کو مزید بدامنی اور خون ریزی کا شکار ہوتے دیکھتی رہتی؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے خراب حالات پر صدر مملکت سے 2 مرتبہ مشاورت کی گئی اور سیاسی کمیٹی نے بھی 48 گھنٹے مذاکرات میں صرف کیے، تاہم حالات کے پیش نظر سخت فیصلے کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں:گورنر راج اور ایمرجنسی پر مولانا فضل الرحمان اپنے ماضی کے اتحادیوں کے خلاف کیوں کھڑے ہوگئے؟

شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کیے گئے فیصلوں کی آئین اور قانون اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل مشاورتی کونسل بھی قائم ہوچکی ہے، جس کا مقصد صوبے میں بہتری کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں مبینہ بدعنوانی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے اور کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی کرپشن کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پلسر گولڈ منصوبے میں بھی من پسند افراد کو ٹھیکے دیے گئے۔

اجلاس میں وزیراعظم کو صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ امن کے لیے قربانیاں دینے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے اور عوام امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس نے امن کے قیام کے لیے قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ پائیدار امن و استحکام کے لیے وفاق کا تعاون ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:ایمرجنسی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا پہلا دورۂ پشاور، وفاقی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری

گورنر نے کہا کہ دہشتگردوں، ان کے سہولتکاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کا خاتمہ ترجیح ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون اور تمام اداروں کا یکسو ہونا امن و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت مل کر خیبر پختونخوا میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لائیں گے اور صوبے کے عوام کو بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کی سرزمین ہے اور اس کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی سی ایل گروپ کی مالیاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری، آمدن میں 62 فیصد اور آپریٹنگ منافع میں 181 فیصد اضافہ

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے روپے سستا ہوگیا؟

پاکستانی روپیہ بہتری کا سفر جاری رکھے ہوئے، مزید مضبوط ہوگیا، جانیے ڈالر کی قیمت

’فی الحال کچھ لکھنے سے قاصر ہوں‘ امیتابھ بچن نے سوشل میڈیا سے وقفے کا اعلان کردیا

ویڈیو

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟