میڈرڈ کی ایک ویڈیو پچھلے دنوں پورے اسپین میں دیکھی گئی۔ 87 سالہ بزرگ خاتون ماری کارمن کو اسٹریچر پر ڈال کر اس فلیٹ سے نکالا جا رہا تھا جس میں وہ تقریباً 70 برس سے رہ رہی تھیں۔ عمارت ایک انویسٹمنٹ کمپنی نے خرید لی تھی، کرایہ کئی گنا بڑھانے کی کوشش ہوئی اور بات بے دخلی تک جا پہنچی۔ اس ویڈیو نے پورے سپین میں تہلکہ مچا دیا۔ چند دنوں میں 50 سے زیادہ شہروں میں لوگ نکل آئے۔ کئی جگہوں پر بینر تھامے نوجوان نظر آئے، جس پر لکھا تھا، ’فلیٹ کی تلاش ہے، گردہ بیچنا پڑے گا‘۔
یورپ کے حالیہ ہنگاموں کو زیادہ تر فرانس کی جلتی گاڑیوں کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے مگر یہ تصویر ادھوری ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں 6 یورپی ملکوں میں بیک وقت لوگ سڑکوں پر نکلے۔ ہر ملک کا فوری سبب الگ ہے، مگر ان سب میں 2 چیزیں مشترک ہیں، ایک عوام کی بے چینی اور دوسرا احتجاج میں یورپی جین زی کا نمایاں اور آگے ہونا۔
ایک براعظم، الگ الگ احتجاج
ٹالسٹائی نے اپنے مشہور ناول اینا کارینینا کی پہلی سطر میں لکھا تھا کہ سب خوش باش گھرانے ایک سے ہوتے ہیں مگر ہر ناخوش اور دکھی گھرانے کا الگ ہی دکھ ہوتا ہے۔ یہ بات اس یورپی احتجاجی لہر کے لیے بھی درست ہے۔
فرانس میں ستمبر کے وسط میں پیرس کے نواحی ہائی سکولوں کے طلبہ نے کچرے کے ڈبوں سے دروازے بند کر دیے۔ شکایت سادہ تھی، اساتذہ پورے نہیں، کلاسیں ٹھنسی ہوئی اور عمارتیں خستہ۔ پھر یونیورسٹیاں، مزدور تنظیمیں اور ییلو ویسٹ کوٹ احتجاجی تحریک جو خاصے عرصے سے چل رہی تھی، وہ بھی ان سے آن ملی۔ 17 اکتوبر کو ساڑھے 5 لاکھ کے قریب لوگ سڑکوں پر تھے۔ اسی شام لیموژ کا تاریخی ٹاؤن ہال جلا، ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں۔
اٹلی میں مہنگائی، ڈیزل کی قیمتوں اور جنگوں کے خلاف مارچ ہوئے۔ فیشن کے مرکز شہر میلان میں نقاب پوشوں نے دکانیں لوٹیں، پولیس نے جو مظاہرین پکڑے ان میں اکثریت نابالغوں کی تھی۔ دوسری طرف اسپین میں اوسط کرایہ 10 برس میں تقریباً دگنا ہو چکا ہے اور کرایہ داروں کے تحفظ کے لیے حکومت کے 2 ہنگامی قوانین پارلیمنٹ نے ختم کر دیے جس پر احتجاجی تحریک بھڑک اٹھی۔ پرتگال کے شہر لزبن میں نوجوانوں نے خیمے گاڑ کر بینر لگائے کہ ہم ایک بے گھر نسل ہیں۔ برسلز، بلجیئم میں سرکاری کٹوتیوں کے خلاف 30 ہزار کے قریب لوگ نکلے۔
البانیہ میں مہینوں سے فلیمنگو تحریک چل رہی تھی جو دراصل ایک محفوظ ساحلی علاقے میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے جڑے لگژری ریزورٹ کے خلاف شروع ہوئی۔ اکتوبر میں طلبہ خستہ یونیورسٹیوں، فیسوں اور بدعنوانی کے خلاف اس میں شامل ہوئے اور تیرانا میں وزارت تعلیم کی عمارت کو آگ لگا دی گئی۔
یورپی ریاستیں ہاتھ کھڑے کر چکی ہیں
ان سب یورپی ملکوں میں قدر مشترک حکومتوں کی بے بسی ہے۔ فرانس کا قومی قرض مجموعی قومی پیداوار کے 119 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور منقسم (ہنگ) پارلیمنٹ میں کوئی بڑا فیصلہ ممکن نہیں۔ ایک یورپی تھنک ٹینک کے بقول ناراض طلبہ کو حکومت کا عملی جواب یہی مل رہا ہے کہ پیسے نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے
نوجوانوں کا اعتراض ہے کہ اپنی مرضی کے کاموں اور جنگوں پر تو پیسے خرچ کر رہے ہو۔ یوکرین جنگ اور روس کے خوف سے یورپی حکومتیں دفاع پر کہیں زیادہ خرچ کرنے کا وعدہ کر چکی ہیں۔ جب ٹینک اور میزائل کے لیے گنجائش نکل آئے اور ٹپکتی چھت والے کلاس روم کے لیے پیسے نہ ہوں توطلبہ کا غصے میں آنا فطری ہے۔ میلان، اٹلی میں اسی لیے عوامی مارچ جنگوں کے خلاف بھی تھا۔
ایک بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے۔ اسپین میں اقلیتی حکومت کام چلا رہی ہے جسے پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں اور وہ قوانین منظور نہیں کرا پا رہی۔ فرانس میں حکومتیں بنتی گرتی رہی ہیں اور البانیہ میں سنہ 2013 سے برسراقتدار ناکام حکمران ایدی راما ہر احتجاج کو سازش قرار دیتے ہیں۔ آج بیشتر مغربی تجزیہ کار مان رہے ہیں کہ جب کسی یورپی ریاست کا جواب پیسوں کی کمی، سازش کا الزام یا کرفیو ہو تو سڑک ہی واحد زبان رہ جاتی ہے۔
بوڑھا یورپ اور پنشن کا بوجھ
ہمارے اردو قارئین کو شاید اندازہ نہیں کہ یورپ تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہے۔ 20 برس پہلے یورپی یونین کی 17 فیصد آبادی 65 برس سے اوپر تھی، اب یہ شرح 22 فیصد کے قریب ہے۔ پنشن کا نظام زیادہ تر یوں چلتا ہے کہ آج کا کمانے والا آج کے ریٹائرڈ کی پنشن ادا کرتا ہے، اس امید پر کہ کل اگلی نسل اس کی پنشن دے گی۔ جب کمانے والے گھٹ جائیں اور پنشن لینے والوں کی تعداد بڑھ جائے تو یہ حساب کتاب الٹ جاتا ہے۔
فرانس کے سرکاری ملازمین کے نظام میں اب ہر پنشنر کے مقابلے میں ایک سے بھی کم کام کرنے والا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وزارت تعلیم کے بجٹ کا لگ بھگ تہائی حصہ پنشن میں چلا جاتا ہے۔
سیاسی عوامل بھی اس میں شامل ہیں۔ بزرگ ووٹر یورپ کی سب سے منظم انتخابی قوت ہیں جو باقاعدگی سے ووٹ ڈالتے ہیں، اس لیے کوئی حکومت پنشن چھیڑنے کا خطرہ مول نہیں لیتی اور کفایت شعاری کی چھری سکول اور اسپتال پر چلتی ہے۔
دوسرا رخ بھی دیکھنا چاہیے ۔ پنشن خیرات نہیں، بزرگوں نے عمر بھر اس میں حصہ ڈالا ہے اور کئی یورپی ملکوں میں سینئر سٹیزن ہی غربت کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ کئی اہم یورپی تجزیہ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ لڑائی نوجوان بمقابلہ بزرگ نسل کی نہیں۔ اصل غصہ اس بندوبست پر ہے جس میں ایک نسل کو ملنے والے مواقع اگلی نسل تک پہنچتے دکھائی نہیں دیتے۔
گھر، وراثت اور پورے نہ ہونے والے وعدے
پنشن سے بھی زیادہ جو چیز چبھ رہی ہے وہ گھر ہے۔ آج کا یورپی نوجوان مہنگائی کے باعث ایک چھوٹا فلیٹ کرائے پر لینے کو ترستا ہے جبکہ اس کے والدین اسی نوجوان عمر میں مکان خرید چکے تھے۔
جب گھروں کی قیمتیں تنخواہوں سے کئی گنا تیزی سے بڑھ جائیں تو اپنی محنت سے گھر بنانا ممکن نہیں رہتا۔ فیصلہ کن سوال یہ بن جاتا ہے کہ آپ کے والدین کے پاس گھر ہے یا نہیں؟ یعنی میرٹ کی جگہ وراثت لینے لگتی ہے، اور نوجوان کو سب سے زیادہ یہی بات کاٹتی ہے۔
جین زی کیا سوچ رہی ہے؟
پیرس کے بعض مظاہروں میں طلبہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، ’جین زی جیتے گی‘۔ نوجوانوں کے موڈ کو سمجھنے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے۔
برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ کی ایک رپورٹ میں تجزیہ کار نے ایک نوعمر لڑکے کا قصہ لکھا جو باپ سے 90 کی دہائی کا احتجاجی میوزک سن کر پوچھتا ہے کہ آپ لوگوں کو غصہ کس بات پر تھا؟ آپ کے زمانے میں تو گھر خریدنا آسان تھا اور ڈگری کی قدر تھی۔ فنانشل ٹائمز نے اپنے ایک تجزیے میں اس احتجاج کا 1968 کی طلبہ تحریک سے موازنہ کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ تب کا نوجوان اپنا مستقبل بدلنے نکلا تھا، آج کے نوجوان کو مستقبل نظر ہی نہیں آ رہا۔ اے آئی کے ہاتھوں نوکریاں چھننے کا خوف، موسمیاتی بحران اور روس کی جانب سے ممکنہ جنگ کا خطرہ۔ یہ سب ایک ساتھ اس کے ذہن پر سوار ہیں۔
مزید پڑھیے: ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کیا کرے؟
بعض ممالک میں یہ غصہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے خلاف ہے۔ البانوی شہر تیرانا میں نعرے لگ رہے ہیں، ’راما جیل میں، بیریشا جیل میں‘۔ بیریشا اپوزیشن کے سربراہ ہیں، یعنی نوجوان حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ایک ترازو میں تول رہے ہیں۔
امریکی ماہرین ایریکا چینووتھ اور میتھیو سیبل کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر کی جین زی تحریکوں میں کمزور معیشت، بے روزگاری اور نوجوان آبادی کی کثرت عموماً مشترک ہوتی ہے۔ یورپ کا معاملہ الٹ ہے۔ یہاں نوجوان اقلیت میں ہے اور کم ووٹ بھی ڈالتا ہے۔ جمہوریت گنتی کا کھیل ہے۔ جب بوڑھی ہوتی آبادی میں نوجوان کا ووٹ فیصلہ کن نہ رہے تو وہ سڑک کو اپنا بیلٹ باکس بنا لیتا ہے۔ اس نسل کا سب سے خطرناک احساس یہی ہے کہ جمہوریت اس کے لیے نہیں، اس کے دادا دادی کی لونڈی بن چکی ہے، ان کے لیے کام کر رہی ہے۔
یہ جین زی سوشل میڈیا پر پلی ہے۔ اس کی تنظیمی قوت سنیپ چیٹ گروپ ہیں اور لیڈر کوئی نہیں۔ یہی اس کی طاقت ہے اور کمزوری بھی۔ حکومت مذاکرات کس سے کرے اور ہجوم کو تشدد سے روکے کون؟
مہذب یورپ میں آگ کیوں؟
میرے ذہن میں یہی سوال تھا جس کے جواب کے لیے پچھلے کئی دنوں سے یورپی اخبار کھنگال رہا ہوں۔ مہذب اور جمہوری یورپ میں احتجاج کے دوران ٹاؤن ہال کیوں جلتے ہیں اور دکانیں کیوں لٹ رہی ہیں؟ یہ تو ہمارے جیسے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں جمہوریت ابھی کمزور ہے۔
اس کے 5 جواب ملے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ پرامن یورپ کا تصور آدھا سچ ہے۔ فرانس کی جمہوریت ہی سڑک سے نکلی ہے۔ 1789 کا انقلاب، 68 کی بغاوت، 2005 کے مضافاتی فسادات، ییلو ویسٹ یعنی پیلی جیکٹ تحریک اور دو ہزار تئیس میں ایک نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد کے ہنگامے۔ وہاں عوامی سطح پر یہ یقین گہرا ہے کہ زیادہ دباؤ ڈالا جائے تو حکومت پیچھے ہٹتی ہے۔
دوسری وجہ فرانسیسی پولیس کا مزاج ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی پولیس کی روایت پرانی ہے اور یہ نپولین کی مرکزی ریاست سے آئی ہے جس میں پہلا فرض ریاست کا تحفظ ہے۔ 5 اکتوبر کو لانس شہر میں اسکول کی خستہ حالی کے خلاف احتجاج پر نکلا ایک 15 سالہ لڑکا آنسو گیس کا گرینیڈ ہاتھ میں پھٹنے سے اپنا ہاتھ کھو بیٹھا۔ ایسے واقعات سے شدید ردعمل پیدا ہوتا ہے۔ اس پر سختی اشتعال مزید بڑھاتی ہے اور پھر یہ عوامی اشتعال پولیس کی مزید سختی کا جواز بنتا ہے۔
تیسری وجہ یہ کہ ہجوم میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ فرانس میں بلیک بلاک کہلانے والے سیاہ پوش گروہ تھے جن کے نزدیک پولیس سے ٹکراؤ ہی اصل مقصد ہے، تاکہ ریاست کا جابرانہ چہرہ بے نقاب ہو۔ پھر موقع پرست لٹیرے آئے۔ انڈیپنڈنٹ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہنگامہ کرنے والوں میں انتہائی دائیں بازو اور روس نواز شناخت والے کچھ سفید فام نوجوان بھی تھے۔ صدر ٹرمپ نے سارا ملبہ تارکین وطن پر ڈالا، مگر فرانسیسی حکمران میکرون نے خود کہا کہ اس میں امیگرنٹس نہیں بلکہ فرانسیسی ملوث تھے۔
مزید پڑھیں: مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ
پرتشدد عوامی احتجاج کی چوتھی وجہ ہجوم کی نفسیات ہے۔ ٹائمز میں ڈینیئل فنکل اسٹائن نے لندن کے 2011 کے فسادات یاد دلا کر لکھا کہ اکیلا آدمی شیشہ توڑنے سے ڈرتا ہے، مگر جب سینکڑوں لوگ یہی کر رہے ہوں اور پولیس پیچھے ہٹ رہی ہو تو خطرے کی کیلکولیشن بدل جاتی ہے۔ بعض نوجوان پہلی بار ریاست کو اپنے سامنے بے بس دیکھتے ہیں اور اس عارضی طاقت کا نشہ انہیں آگے دھکیلتا ہے۔
پانچویں وجہ اسمارٹ فون ہے۔ تجزیہ کار سائمنز کے بقول یہ ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیو کے لائکس گننے والا ہجوم ہے، اور جلتی گاڑی کی ویڈیو پرامن مارچ سے کئی گنا زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ میلان میں حراست میں لیے گئے زیادہ تر لوگ نابالغ تھے، یعنی بعض کے لیے یہ احتجاج کم اور ایڈونچر زیادہ تھا۔
فائدہ کس کا؟
جو تحریک بہتر سکول اور سستے گھر کے مطالبات سے شروع ہوئی، اس کا سیاسی فائدہ فی الحال دائیں بازو لیتا نظر آ رہا ہے۔ فرانس میں صدارتی انتخاب 6 ماہ بعد ہے اور انتہائی رائٹ ونگ رہنما اور امیگرنٹ دشمن مارین لی پین جائزوں میں آگے ہیں۔ جلتے شہروں کی تصویریں ان کی سب سے بڑی انتخابی مہم ہیں۔ اڑسٹھ کی بغاوت کے بعد بھی جنرل ڈیگال نے انتخابات کرائے تو عوام نے انقلاب کے بجائے ڈسپلن کو چنا تھا۔ اٹلی میں میلونی کو سخت قوانین کا جواز مل گیا اور البانیہ میں راما کو سازش کا بیانیہ۔
ایک ہم بات جو یورپی حکومتوں کو سمجھنی چاہیے کہ کرفیو ہنگامہ روک سکتا ہے، کرایہ کم نہیں کر سکتا۔ پولیس سڑک خالی کرا سکتی ہے، کلاس روم میں استاد نہیں لا سکتی۔ یورپ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک شاندار فلاحی ریاست بنائی جو بزرگوں کا بڑھاپا محفوظ کرنے میں کامیاب رہی۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ ریاست اپنے بچوں کو بھی مستقبل دے سکتی ہے؟ جو جمہوریت اپنے بزرگ ووٹر کی بات اتنے دھیان سے سنتی ہے، وہ اپنے نوجوان کی بات کب سنے گی؟ اور اگر نہ سنی تو کیا یورپ کو حیرت ہونی چاہیے کہ اس کا نوجوان بیلٹ باکس کے بجائے سڑک پر اپنی بات کہہ رہا ہے؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔









