پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )نے شدید اندرونی اختلافات، گرفتاریوں اور صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے باوجود خیبرپختونخوا میں جنید اکبر کی صدارت میں صوبائی تنظیم کو برقرار رکھتے ہوئے اہم انتظامی ذمہ داریاں تفویض کر دی ہیں۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک اہم نوٹیفیکیشن میں واضح کیا ہے کہ پارٹی کی صوبائی تنظیم خیبرپختونخوا جنید اکبر کی صدارت میں بدستور فعال رہے گی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبائی کابینہ یا تنظیمی ڈھانچے میں اگلے احکامات تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، علی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجا کے نام کھلا خط، معافی کا مطالبہ
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سینیٹر نور الحق قادری، جو کے پی میں پارٹی کے سینیئر نائب صدر ہیں، جنید اکبر کی غیر موجودگی میں صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا خیبر پختونخوا میں پارٹی کے تنظیمی امور سے متعلق اہم نوٹیفکیشن جاری۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جنید اکبر خان بدستور صوبائی صدر رہیں گے۔ ان کی عدم موجودگی میں سینیٹر نورالحق قادری پارٹی اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دینگے- جبکہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری علی اصغر خان تمام تنظیمی امور کی مجموعی نگرانی کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائیگی-
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 24, 2026
انتظامی امور اور نئی ذمے داریاں
نوٹیفکیشن میں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکریٹری علی اصغر کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جن کے تحت وہ سینیئر نائب صدر کی غیر موجودگی میں اجلاسوں کی صدارت کرنے کے مجاز ہوں گے۔
انہیں صوبائی تنظیم کے دیگر درجوں کے اجلاس بلانے اور ان کی صدارت کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ علی اصغر تنظیم کے انتظامی امور، رابطہ کاری اور سپرویژن کی مکمل نگرانی کریں گے تاکہ پارٹی پالیسیوں، حکمت عملیوں اور فیصلوں کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ نوٹیفیکیشن چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے دستخط سے جاری کیا گیا۔
خیبرپختونخوا میں یہ تنظیمی ترجیحات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات ناکام ہونے پر اکتوبر 11 کو صوبے میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔
یہ پیشرفت اکتوبر 4 کو شروع ہونے والے پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی طرف طویل لانگ مارچ کے بعد سامنے آئی۔
اسی روز پولیس نے صوابی میں 59 پی ٹی آئی کارکنوں جبکہ خیبر ضلع سے 6 دیگر افراد کو گرفتار کر لیا تھا، جبکہ اطلاعات کے مطابق معزول وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا، جس کے بعد پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اور رہنماؤں نے آن لائن بیانات کا تبادلہ شروع کر دیا۔
علی امین گنڈاپور اور سلمان اکرم راجا کے درمیان اندرونی چپقلش
پی ٹی آئی کے اندر قیادت اور سیاسی حکمت عملی پر اختلافات اب عوامی سطح پر بھی آ چکے ہیں۔ اکتوبر 21 کو سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے داخلی تقسیم، صوبائی قیادت اور سیاسی امور کی سرپرستی پر ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی تھی۔
سلمان اکرم راجا نے جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے غیر جمہوری فیصلہ سازوں سے ہوشیار رہنے کی تنبیہ کی تھی، جبکہ علی امین گنڈاپور نے سیکریٹری جنرل سے اپنے الزامات کے ثبوت فراہم کرنے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔
آڈیو لیک اور قانونی پوزیشن پر مؤقف
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی جس میں علی امین گنڈاپور نے مبینہ طور پر سلمان اکرم راجا کی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں کو صوبائی حکومت کی برطرفی اور موجودہ سیاسی بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ تاہم متعلقہ میڈیا ادارے نے اس ریکارڈنگ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی تھی۔
گرافک اور سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے گنڈاپور نے ان دعوؤں کی بھی تردید کی کہ صوبائی قانون ساز بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سیاسی کمیٹی کی منظوری کے بغیر قیادت اور اگلے وزیرِ اعلیٰ کا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر دہشگردوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، پی ٹی آئی
دوسری جانب سلمان اکرم راجا نے مؤقف اپنایا کہ سہیل آفریدی قانون کے مطابق تاحال وزیرِ اعلیٰ ہیں اور جنید اکبر صوبائی صدر برقرار ہیں، جبکہ علی اصغر ان کی غیر موجودگی میں امورِ کار سنبھال رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کی مصالحتی کوششیں
پارٹی میں پیدا ہونے والے اس اندرونی بحران کو سمیٹنے کے لیے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے متحرک کردار ادا کیا۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے تمام متعلقہ رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں اور انہیں پارٹی مفاد میں ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینے سے گریز کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی کے صوبائی قانون ساز مکمل طور پر متحد ہیں اور سہیل آفریدی ہی پارٹی کی جانب سے وزارتِ اعلیٰ کے لیے حتمی نامزد امیدوار ہیں۔
اکتوبر 24 کا یہ نوٹیفکیشن اسی پس منظر میں خیبرپختونخوا تنظیم کے امور کو باقاعدہ شکل دیتا ہے تاکہ تنظیمی تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔











