فرانس کے دارالحکومت پیرس میں نئے مظاہروں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر شہر کے مختلف عجائب گھر اور آرٹ گیلریاں بند کردی گئیں، جس کے باعث سیاح دنیا کی مشہور پینٹنگ ’مونا لیزا‘ سمیت دیگر شاہکار دیکھنے سے محروم رہ گئے۔
ہفتے کے روز مایوس سیاح لوور میوزیم کے بند دروازوں کی سلاخوں سے اندر جھانکتے دکھائی دیے۔
اطالوی سماجی تعلیم سے وابستہ 31 سالہ سیلینا برٹونی نے میوزیم ڈی اورسے کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب یہاں آئے تو انہیں اندازہ تھا کہ کوئی مسئلہ ہوسکتا ہے لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ عجائب گھر ہی بند ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں ’بلاک ایوری تھنگ‘ مظاہرے، ہنگامہ آرائی اور تصادم
وہ 4 روزہ دورے پر پیرس آئی تھیں اور میوزیم میں مصوری کے تاثر پرستانہ فن پاروں اور دیگر شاہکاروں کو دیکھنے کے لیے 2 ٹکٹوں کی مد میں 50 یورو ادا کرچکی تھیں۔ انہوں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ وقت ہی خراب تھا۔
یہ بندشیں فرانس بھر میں مہنگائی اور عوامی خدمات کے بگڑتے معیار کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے ایک ہفتے بعد سامنے آئیں۔
GATES CLOSED: The Louvre, the most visited museum on the planet, closed its doors Monday after protesters barricaded every entrance — blocking access to the Mona Lisa, Venus de Milo, and tens of thousands of tourists who showed up expecting a normal visit.
Full story here… pic.twitter.com/HutumdAQS0
— Fox News Lifestyle (@FoxNewsLife) October 19, 2026
ان مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، جسے فرانس نے کئی برسوں کے بدترین سڑکوں پر ہونے والے تشدد میں شمار کیا۔
تشدد اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کے بعد حکومت نے مختلف علاقوں میں مخصوص اوقات کے لیے کرفیو نافذ کرنے اور ہفتے کے روز طے شدہ مظاہروں سے قبل متعدد عوامی مقامات بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
سیاحوں کی پسندیدہ منزلیں بھی بند
بندشوں کا دائرہ پیرس کے بیشتر ثقافتی مراکز تک پھیل گیا۔ اورنجری، ژو دو پوم اور پکاسو میوزیم سمیت کئی عجائب گھر بند کردیے گئے، جبکہ لوور سے متصل ٹوائلریز گارڈنز کے پورے احاطے کو بھی عوام کے لیے بند کردیا گیا۔
21 ‘سالہ فرانسیسی سیاح ہیدی روزار نے بتایا کہ یہ تیسرا عجائب گھر ہے جہاں وہ آئے ہیں اور وہ بھی بند ہے۔ ‘انہیں پہلے ہی آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
لوور میوزیم کے سیاہ لوہے کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے، جس کے باعث پورے احاطے اور باغ تک رسائی ممکن نہیں تھی۔
مزید پڑھیں: یورپ کے کئی ممالک میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، پولیس سے جھڑپیں
67 سالہ کینیڈین سیاح ڈان نوشکک نے بتایا کہ وہ کم از کم اس کے شیشے کے اہرام کو تو دیکھنا چاہتے تھے، وہ میوزیم کے مشہور شیشے کے داخلی دروازے کا حوالہ دے رہے تھے۔
روشنیوں کے شہر پیرس میں 2 راتیں قیام کرنے والے نوشکک کے خیال میں مقامی حکام نے شاید سیکیورٹی کے معاملے پر ضرورت سے زیادہ سخت اقدامات کیے تھے۔
’یہاں اتنی زیادہ سکیورٹی ہے کہ لگتا ہے میوزیم کی حفاظت کے لیے یہ کافی ہونی چاہیے۔ پیرس میں اتنی بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو بندوقوں کے ساتھ دیکھنا کچھ عجیب ہے، ہم بندوقوں کے عادی ہیں، لیکن اس طرح نہیں۔‘
اوپرا ہاؤسز اور آرٹ میلے بھی متاثر
احتیاطی اقدامات کے باعث فنونِ لطیفہ اور پرفارمنگ آرٹس کا شعبہ بھی متاثر ہوا، پیرس اوپرا نے عملے اور تماشائیوں کی حفاظت کے خدشات کے پیش نظر اپنے دونوں بڑے مراکز، پیلیس گارنیے اور اوپرا باستیل، بند کردیے۔
معروف آرٹ میلے ’آرٹ بیسل پیرس‘ کے منتظمین نے بھی ہفتے اور اتوار کے پروگرام منسوخ کردیے۔
مزید پڑھیں: فرانس میں پرتشدد مظاہرے، میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا
ثقافتی مراکز نے جمعے کے روز ہی اپنی بندشوں سے متعلق انتباہ جاری کردیے تھے، تاہم بعض سیاحوں نے ان اطلاعات کو دیکھنے کی زحمت نہیں کی یا انہیں توقع ہی نہیں تھی کہ عجائب گھر بند ہوسکتے ہیں۔
59 ‘سالہ فرانسیسی خاتون کیتھرین سباغ نے بے چارگی میں کہا کہ انہیں کیسے معلوم ہوسکتا تھا۔ ‘ہم نے سوچا ہی نہیں تھا کہ کوئی عجائب گھر بند بھی ہوسکتا ہے۔ ہم کچھ سادہ لوح ہیں۔










