فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں، لوٹ مار اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال پر شدید تنقید کے باوجود وزیر داخلہ لوراں نونیز کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً ایک ہزار اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ لگ بھگ 2 ہزار 400 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق، وزیر داخلہ لوراں نونیز نے ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران حکومتی اقدامات پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد اتوار کو صدر میکرون کو استعفیٰ پیش کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں مظاہرین کیخلاف کریک ڈاؤن پر ایران کا طنز
نونیز نے فرانس انٹر ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے بعض شہروں میں پولیس کے حالات پر قابو کھونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے لیے پیشگی تیاری میں بھی کمی رہی، ان کے مطابق، صورت حال کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکامی نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنایا۔
ایلیزے پیلس کے بیان کے مطابق، صدر میکرون نے موجودہ بحران کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کمان میں تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر استعفیٰ مسترد کیا۔
French President Emmanuel Macron has declined Interior Minister Laurent Nunez's offer to resign after widespread weekend rioting, the Elysee presidential office said https://t.co/eB4D8k2hXX
— Reuters (@Reuters) October 19, 2026
تاہم، انہوں نے انٹیلیجنس معلومات کے حصول اور پیشگی منصوبہ بندی میں سامنے آنے والی خامیوں کے حوالے سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ بھی کیا۔
فرانس میں بدامنی کے واقعات پر پیرس، مارسیلے اور لیموج سمیت متعدد شہروں کے مقامی رہنماؤں نے حکومتی ردعمل پر تنقید کی ہے، وزیر داخلہ نونیز آئندہ مارسیلے کا دورہ کریں گے، جہاں حکام کے مطابق ہفتے کے روز لوٹ مار میں تقریباً 30 ہزار افراد ملوث تھے۔
دوسری جانب، صدر میکرون نے اتوار کی شام ٹیلی ویژن خطاب میں تباہی پھیلانے والوں کے احتساب کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔
مزید پڑھیں: فرانس میں مہنگائی کے خلاف پُرتشدد احتجاج، تاریخی ٹاؤن ہال نذرِ آتش
اتوار کی رات پیرس، لیون اور مارسیلے میں ایک بار پھر جھڑپوں اور لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے۔ پیرس میں پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب تازہ واقعات کے بعد رات تقریباً 12 بجے تک 92 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ادھر، وزیراعظم سیباستیان لکورنو کی زیر صدارت بین الوزارتی ہنگامی اجلاس میں بدامنی کے معاشی اثرات، کاروباری مراکز کو پہنچنے والے نقصانات، انشورنس معاملات اور جاری قانونی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
فرانسیسی فیڈریشن آف کامرس اینڈ ڈسٹری بیوشن کے مطابق، ہفتے کے روز تشدد کے دوران تقریباً 1,500 کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مالی نقصانات کا تخمینہ کئی سو ملین یورو لگایا گیا ہے۔











