مالک کی موت کے بعد ایک ماہ تنہا گھر میں پھنسی بلی کیسے زندہ بچی؟

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پالتو جانور اپنے مالکان کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرلیتے ہیں لیکن اگر ان کا مالک اچانک دنیا سے رخصت ہوجائے اور گھر میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی موجود نہ ہو تو یہ جانور شدید مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بروقت اطلاع اور متبادل دیکھ بھال کا انتظام ان کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طوطے کیا کہہ رہے ہیں؟ اے آئی جانوروں کی زبان کا راز کھولنے میں مصروف

برطانیہ میں ایک ایسی ہی دل دہلا دینے والی کہانی سامنے آئی ہے جہاں ایک شخص کی موت کے بعد اس کی پالتو بلی تقریباً ایک ماہ تک گھر میں پھنسی رہی۔ خوش قسمتی سے بلی نے خوراک کے ایک بڑے تھیلے اور ٹوائلٹ میں موجود پانی کی مدد سے اپنی جان بچائے رکھی یہاں تک کہ جانوروں کے ریسکیو کارکنوں نے اسے تلاش کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

بلیوں کے لیے امدادی خدمات فراہم کرنے والے ادارے اسٹریے کیٹ ریسکیو ٹیم ویسٹ مڈلینڈز کے مطابق یہ ان کے لیے انتہائی افسوس ناک واقعات میں سے ایک تھا کیونکہ بلی کے مالک کی موت کے بعد گھر میں کوئی موجود نہیں تھا جو اس کی ضروریات کا خیال رکھتا۔

مالک کی موت کے بعد گھر میں تنہا رہ گئی بلی

یہ واقعہ برطانوی شہر شروزبری میں پیش آیا جہاں ایک شخص کی موت کے بعد اس کی بلی نِبلز گھر میں محصور ہوگئی۔ ریسکیو ادارے کے مطابق مالک کی موت کے تقریباً 2 ہفتے بعد اس کی لاش ملنے کے بعد بلی کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی تاہم بلی اس سے پہلے بھی کئی دن تک گھر میں اکیلی رہ چکی تھی۔

متوفی شخص کی ایک دوست کو معلوم تھا کہ اس کے پاس بلی ہے۔ مالک کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد اس خاتون نے بلی کو بچانے کی کوشش کی اور پولیس اور رائل سوسائٹی فار دی پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز (آر ایس پی سی اے) سے رابطہ کیا۔

مزید پڑھیے: پالتو جانوروں کو گھر پر اکیلا چھوڑنا دشوار، مصنوعی ذہانت نے یہ مشکل بھی حل کردی

ریسکیو ادارے کے مطابق جب اسے محسوس ہوا کہ بلی کی مدد کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے جارہے تو اس نے خود مداخلت کرنے اور جانور کو تلاش کرکے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔

خوراک کے تھیلے اور ٹوائلٹ کے پانی سے زندگی بچائی

ریسکیو کارکنوں کو خدشہ تھا کہ بلی طویل وقت تک گھر میں محصور رہنے کے باعث مرچکی ہوگی۔ مکان کی حالت بھی تشویش ناک تھی اور وہاں مکھیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تاہم، جب کارکن گھر میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ نِبلز اب بھی زندہ ہے۔ ادارے کے مطابق بلی نے کسی طرح خوراک کے ایک بڑے تھیلے تک رسائی حاصل کرلی تھی اور اسی سے اپنی خوراک حاصل کرتی رہی۔ پانی کے لیے اس نے ٹوائلٹ میں موجود پانی کا سہارا لیا۔

ریسکیو ٹیم نے بتایا کہ بلی نامساعد حالات کے باوجود تقریباً ایک ماہ تک زندہ رہنے میں کامیاب رہی۔ اسے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد اس کی دیکھ بھال شروع کردی گئی۔

ادارے کے مطابق گھر میں بلی کے لیے مختلف اشیا موجود تھیں جن میں کھیلنے کے کھلونے، بلی کے بیٹھنے اور چڑھنے کے لیے مخصوص ڈھانچے، لیٹر ٹرے اور خوراک شامل تھیں۔ ان اشیا سے ظاہر ہوتا تھا کہ مالک اپنی بلی سے محبت کرتا تھا اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا۔

مزید پڑھیں: کیلیفورنیا میں پالتو کتوں کو بچانے کے لیے جوڑے کا سیاہ ریچھ سے مقابلہ

ریسکیو ٹیم نے کہا کہ اس واقعے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ بلی کو محبت اور دیکھ بھال کے ساتھ پالا گیا تھا لیکن مالک کی موت کے بعد وہ ایسی صورت حال میں پھنس گئی جہاں اس کی مدد کرنے والا کوئی موجود نہیں تھا۔

ریسکیو ادارے نے پولیس سے شکایت کردی

اسٹریے کیٹ ریسکیو ٹیم ویسٹ مڈلینڈز نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار مکان میں داخل ہوئے تھے لیکن بلی کی موجودگی ان کی نظر میں نہیں آئی حالانکہ گھر میں بلی سے متعلق متعدد اشیا موجود تھیں۔

ادارے کے مطابق ان اشیا سے واضح ہونا چاہیے تھا کہ گھر میں ایک پالتو بلی بھی موجود ہے۔ ریسکیو ٹیم نے اس معاملے پر ویسٹ مرسیا پولیس کو باضابطہ شکایت بھی جمع کرائی ہے۔

پولیس نے تصدیق کی کہ اسے اس واقعے سے متعلق شکایت موصول ہوئی ہے تاہم تحقیقات اور شکایت کے طریقہ کار کی تکمیل تک مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ آر ایس پی سی اے سے بھی اس معاملے پر مؤقف طلب کیا گیا۔

اکیلے رہنے والے افراد کے پالتو جانوروں کا خیال کون رکھے گا؟

اگرچہ نِبلز کو بالآخر بچالیا گیا لیکن اس واقعے نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ ایسے پالتو جانوروں کا کیا ہوتا ہے جن کے مالکان اکیلے رہتے ہوں اور اچانک ان کی موت ہوجائے یا وہ کسی وجہ سے جانوروں کی دیکھ بھال کے قابل نہ رہیں۔

ریسکیو ادارے نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایسے کئی جانور ہوسکتے ہیں جو اپنے مالکان کی موت کے بعد گھروں میں تنہا رہ جاتے ہیں اور ان کی موجودگی کا کسی کو علم ہی نہیں ہوتا۔

ادارے نے پالتو جانور رکھنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ ہنگامی حالات کے لیے پہلے سے انتظام کریں تاکہ ان کی غیر موجودگی یا موت کی صورت میں جانوروں کو خوراک، پانی اور ضروری دیکھ بھال میسر آسکے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا پالتو کتے یا بلی کے ساتھ سونا صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ جدید تحقیق کا انکشاف

اس نے یہ بھی اپیل کی کہ جو افراد کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں جو اکیلا رہتا ہے اور اس کے پاس پالتو جانور ہیں وہ خاندان کے کسی فرد، دوست یا قابل اعتماد شخص کو اس بارے میں آگاہ رکھیں تاکہ ہنگامی صورت حال میں جانور کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

پالتو جانوروں کے لیے پیشگی انتظام کیوں ضروری ہے؟

نِبلز کی کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ پالتو جانوروں کی ذمہ داری صرف انہیں خوراک فراہم کرنے اور روزمرہ دیکھ بھال تک محدود نہیں بلکہ ان کے مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی منصوبہ بندی ضروری ہے۔

پالتو جانور رکھنے والے افراد کسی قابل اعتماد رشتہ دار، دوست یا پڑوسی کو پہلے سے ذمہ داری سونپ سکتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر وہ جانور کی دیکھ بھال کرے۔ اس کے علاوہ گھر میں جانوروں کی موجودگی سے متعلق معلومات کسی قابل اعتماد شخص کے پاس رکھنا اور ہنگامی رابطوں کا انتظام کرنا بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی طرح پڑوسیوں اور قریبی دوستوں کو ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ رہنا چاہیے خصوصاً ایسے افراد کے معاملے میں جو تنہا رہتے ہوں اور جن کے پاس پالتو جانور ہوں۔

مزید پڑھیں: پالتو کتوں کے مالکان کے لیے اہم وارننگ لیتھیم: بیٹری ان سے دور رکھیں

نِبلز اب ریسکیو ادارے کی نگرانی میں ہے اور اس کی کہانی کا اختتام خوش گوار رہا لیکن ہر جانور اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ پالتو جانور اپنی ضروریات کے لیے انسانوں پر انحصار کرتے ہیں اس لیے ان کی دیکھ بھال کے تسلسل کو یقینی بنانا بھی مالکان کی ذمہ داری کا اہم حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp