امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر عبدالسید کون ہیں؟

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصری نژاد امریکی اور مشی گن میں پیدا ہونے والے عبدالسید امریکی سینیٹ کا حصہ بننے والے پہلے مسلم رہنما بن گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف چلائی جانے والی نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک حملوں پر مبنی بدترین مہم کو شکست دے کر یہ شاندار کامیابی حاصل کی۔

42 سالہ ڈاکٹر عبدالرحمان محمد السید  وبائی امراض کے ماہر اور صحت عامہ کے شعبے میں ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے والدین مصر سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔ عبدالسید مشی گن ہی میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے۔

رواں سال کے آغاز میں، وہ ایک ایسی ریاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کا پرائمری الیکشن جیتنے والے پہلے ترقی پسند (پروگریسو) رہنما بنے تھے جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ عبدالسید خود کو سرمایہ دارانہ نظام  کا حامی قرار دیتے ہیں اور سوشلزم کا لیبل سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

نومنتخب امریکی سینیٹر عبدالسید کو سیاسی و صحافتی حلقوں میں اسرائیل کے پالیسیوں کے ایک شدید اور سخت ترین نقاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد، طاقتور امریکی لابی ‘ایپک’ (AIPAC) اور امریکی سیاست میں اسرائیلی اثر و رسوخ پر مسلسل آواز اٹھائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں پر ان کی تنقید کو کسی طور بھی یہودیت یا یہودی عوام کے خلاف دشمنی سے تعبیر نہ کیا جائے۔

عبدالسید نے جنوری 2024 میں ایک پوڈ کاسٹ کے دوران غزہ کی جنگ کو کھلم کھلا ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے فوری اور مستقل بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے مشی گن سینیٹ ریس میں مسلمان امیدوار عبدالسید کا فتح کا دعویٰ

مئی 2026 میں ‘ٹائم’ میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے سوال اٹھایا ’اگر آپ ایک ایسی چیز کو جو صاف طور پر ‘نسل کشی’ ہے، اس کے اصل نام سے نہیں پکار سکتے، تو پھر آپ ڈونلڈ ٹرمپ یا ادویات بنانے والی بڑی کمپنیوں (فارما سی ای اوز) کے سامنے کیسے ڈٹ کر کھڑے ہو سکتے ہیں؟‘

اپریل 2026 میں ‘سی این این’ (CNN) سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا ’دسوں ہزار بے گناہ انسانوں کا قتل عام آپ کو انتہائی ظالم اور جابر بناتا ہے۔‘

عبدالسید کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے  ایک مخصوص ‘یہودی ریاست’ کے طور پر قائم رہنے کا حق تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ‘نسلی ریاست’ (Ethnostate) قرار دیتے ہوئے کہا ’میں ایسی ریاستوں کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی میں یہ مانتا ہوں کہ ایسی نسلی ریاستوں کو برقرار رکھنا ہمارے ملک (امریکا) کی ذمہ داری ہے۔‘

عبدالسید 2026 کی ایران جنگ کا بڑا سبب امریکی سیاست میں ‘ایپک’ کے اثر و رسوخ کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ’بدمعاش ریاست‘ (Rogue State) قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اسرائیلی فوج کے لیے ‘بلا مشروط اور اندھا دھند رقم’ دینے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنا چاہیے۔

اکتوبر 2026 میں ‘فاکس نیوز’ اور ‘این بی سی نیوز’ کو دیے گئے انٹرویوز میں عبدالسید نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے امریکا کی سلامتی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، بلکہ اس کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی نقل و حمل معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کا مقصد اسرائیل کی سرحدوں کو وسعت دینا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ستمبر 2026 میں امریکا نے ایک غیر ملکی حکومت کو 2 ہزار پاؤنڈ کے بھاری بم خریدنے کے لیے 2.8 ارب ڈالر فراہم کیے، حالانکہ وہ اس رقم کو امریکی اسکولوں، تعلیم اور اپنے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر خرچ کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔

مخالفین کا پروپیگنڈا اور الزامات

انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں نے عبدالسید کی امریکا سے وفاداری پر بارہا سوالات اٹھائے اور ان پر دہشتگردوں کے ہمدرد ہونے کے من گھڑت الزامات عائد کیے۔ ٹرمپ مڈٹرم انتخابات کے لیے مہم چلانے کے دوران بار بار عبدالسید کے خلاف باتیں کرتے رہے۔

ریپبلکنز کا دعویٰ تھا کہ ان کے انتخاب سے امریکیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔

دوسری جانب ان کے حریف مائیک راجرز نے یہ موقف اپنایا کہ عبدالسید کی جانب سے سب کے لیے یکساں اور مفت علاج (یونیورسل ہیلتھ کیئر) اور دیگر ترقی پسند پالیسیوں کی حمایت انہیں روایتی امریکی سیاست سے الگ تھلگ کرتی ہے۔

اسرائیل اور غزہ کی صورتحال پر موقف

اسرائیل کے معاملے پر عبدالسید کے موقف نے مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ حد تک تقسیم بھی کیا۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کارروائیوں پر ان کے بیانات کی وجہ سے جہاں بعض یہودی ووٹرز نے تحفظات کا اظہار کیا، وہیں عرب امریکی اور مسلم ووٹرز کی بڑی تعداد نے ان کے موقف کی بھرپور اور بے لوث حمایت کی۔

تمام تر الزامات اور شدید مخالفت کے باوجود، عبدالسید کی یہ فتح امریکی ایوانِ بالا (سینیٹ) میں اقلیتوں اور مسلم برادری کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔

عبدالسید کا  فتح  کے بعد پہلا خطاب

عبدالسید نے اب سے کچھ دیر پہلے ڈیٹروئیٹ میں منعقدہ اپنی ‘واچ پارٹی’ کے دوران پرجوش کارکنوں سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ’مجھے عظیم ریاست مشی گن کے نومنتخب سینیٹر کے طور پر آپ کے سامنے کھڑے ہونے پر بے حد فخر اور اعزاز محسوس ہو رہا ہے۔‘

اپنے خطاب میں عبدالسید نے روایتی مفاہمتی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے مخالفین پر شدید تنقید کی اور اپنی مہم کو امید کا پیغام جبکہ حریف مائیک راجرز کی مہم کو کارپوریٹ مفادات کے تابع قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے ایک زیادہ روشن، عظیم اور امید سے بھرپور مشی گن کی بات کی، جبکہ دوسری طرف کارپوریٹ فنڈنگ سے چلنے والی ایک ایسی مصنوعی اور دکھاوے پر مبنی مہم تھی جس کا مقصد صرف عوام کو دھوکہ دینا اور ان کی توجہ بھٹکانا تھا۔‘

اسلاموفوبیا اور نسل پرستانہ حملوں کا جواب

مشی گن میں پیدا ہونے والے مصری نژاد مسلم رہنما عبدالسید نے انتخابی مہم کے دوران اپنے خلاف چلائی جانے والی نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’شروع میں انہوں نے میرے نام اور میرے عقیدے کی طرف اشارہ کیا جیسے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ یہ شخص ذرا مختلف ہے۔ جب یہ چال ناکام ہو گئی تو انہوں نے مجھے دوسروں کے ساتھ جوڑ کر مجرم بنانے کی کوشش کی۔ اور جب وہ بھی نہ چلا تو انہوں نے ہماری زندگی کی سب سے گھناؤنی مہم چلائی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’وہ شاید میرے نام اور مذہب کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ میرا نام یا میرا عقیدہ وہ وجہ نہیں جس سے آپ پیٹرول، راشن یا ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ تمام حقیقی معاشی مسائل ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے ’میری بیٹی نے محض 15 سال کی عمر میں قرآن مجید کا اول سے آخر تک مطالعہ کیا ‘سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا انکشاف

یاد رہے کہ انتخابی مہم کے دوران ریپبلکنز کی جانب سے عبدالسید کو ‘مسلم انتہا پسند’ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر متعدد جھوٹے اور گمراہ کن دعوے پھیلائے گئے۔

ساؤتھ کیرولائنا سے ریپبلکن رکنِ کانگریس نینسی میس نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عبدالسید ’امریکا میں شریعت قانون نافذ کرنے کی وکالت کر رہے ہیں۔‘ تاہم، تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ ویڈیو 2010 کی ہے جس میں وہ اوکلاہاما ریفرنڈم میں اسلامی قوانین سے متعلق تجاویز پر تنقید کر رہے تھے، نہ کہ امریکا میں شریعت کے نفاذ کی حمایت۔

لیفت ونگ اسٹریمر حسن پیکر کے سالوں پرانے متنازع بیان (’امریکا 9/11 کا حقدار تھا‘) کو سوشل میڈیا پوسٹس میں غلط طور پر عبدالسید سے منسوب کر دیا گیا۔ عبدالسید نے حسن پیکر کے ساتھ کچھ دیر مہم تو چلائی تھی لیکن انہوں نے اس پرانے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’احمقانہ‘ قرار دیا تھا، جبکہ حسن پیکر خود بھی اپنے اس بیان کو نامناسب قرار دے چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا اب کمپیوٹر پر بھی مفت 4K ویڈیوز ایڈٹ کر سکیں گے؟ انسٹاگرام نے بڑا سرپرائز دے دیا

عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھونچال، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی دباؤ کا شکار

فرانس میں کئی برس کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر امڈ آئے، حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

کم عمری کی شادی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر

ایران جنگ پر تنقید اور مواخذے کی دھمکیاں، امریکی وزیر دفاع کا عہدہ نہ چھوڑنے کا اعلان

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟