پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں موجود اور وہاں سے سرگرم دہشتگرد تنظیموں، بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے لاحق مسلسل خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے لیے مستحکم اور محفوظ افغانستان کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان اور برطانیہ نے انسداد دہشتگردی کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط بنانے، خفیہ معلومات اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور نئے سیکیورٹی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے پر اتفاق کیا ہے۔

دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشتگردی سے متعلق سالانہ دوطرفہ مذاکرات بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جن میں علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورت حال، دہشتگردی کے بدلتے ہوئے خطرات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے حملوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ ، وزارت اطلاعات نے ویڈیو جاری کردی

مذاکرات میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر جاری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

افغانستان سے سرگرم دہشتگرد گروہوں اور ٹی ٹی پی کا معاملہ زیر بحث

دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق مذاکرات کے دوران پاکستان اور برطانیہ نے علاقائی اور عالمی سیکیورٹی ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً سرحد پار سرگرم بین الاقوامی دہشتگرد نیٹ ورکس سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے افغانستان میں موجود اور وہاں سے سرگرم دہشتگرد گروہوں، بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے لاحق مسلسل خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے قیام کے لیے افغانستان کا مستحکم، محفوظ اور پُرامن ہونا ناگزیر ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن کا قیام نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

برطانیہ کا پاکستان میں دہشتگرد حملوں پر جانی نقصان پر اظہار افسوس

مذاکرات میں شریک برطانوی وفد نے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔

برطانوی وفد نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس چیلنج سے نمٹنے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

دفتر خارجہ کے مطابق برطانیہ نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور اس ضمن میں دی جانے والی قربانیوں کو سراہا۔

دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے باہمی تعاون، رابطوں اور مشترکہ کوششوں کو مزید مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور گمراہ کن معلومات کے خطرات بھی زیر غور

مذاکرات کا ایک اہم محور دہشتگردی کے نئے رجحانات اور جدید ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات بھی تھے۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے وفود نے انسداد دہشتگردی کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات اور بہترین عملی طریقہ کار کا تبادلہ کیا اور مستقبل میں شراکت داری کے نئے امکانات تلاش کرنے پر گفتگو کی۔

اس موقع پر غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی مہمات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استحصال اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے دہشتگرد سرگرمیوں کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں فریقوں نے تسلیم کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دہشتگردی کے خطرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اور باہمی تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔

علاقائی امن و سلامتی میں پاکستان کی خدمات کا اعتراف

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ اور پاکستان نے علاقائی استحکام اور سلامتی کے فروغ میں پاکستان کی خدمات اور کردار کا اعتراف کیا۔

دونوں ممالک نے انسداد دہشتگردی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور مسلسل مشاورت و رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

اس ضمن میں دونوں فریقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دوطرفہ تعاون کو محض مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات اور ادارہ جاتی اشتراک کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

مذاکرات میں طے پایا کہ انسداد دہشتگردی سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان اگلا سالانہ مذاکراتی دور 2027 میں لندن میں منعقد ہوگا، جس کی تاریخوں کا تعین باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں توسیع پر اتفاق

دفتر خارجہ کے مطابق رواں سال کے آغاز میں بھی پاکستان اور برطانیہ نے انسداد دہشتگردی، غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، ادارہ جاتی تعاون اور پولیس کی تربیت سمیت مختلف شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جائز قرار، امریکا نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کردی

دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ صرف انسداد دہشتگردی تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافے، پولیس تربیت اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے معاملات بھی اس میں شامل ہیں۔

اسی طرح پاکستان اور یورپی یونین نے بھی اقوام متحدہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر دہشتگردی، غیر قانونی نقل مکانی اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ چند برسوں سے کشیدگی کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں سرحد پار دہشتگردی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مبینہ دہشتگرد سرگرمیاں شامل ہیں۔

اسلام آباد متعدد مواقع پر کابل میں طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔

پاکستان بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، جنہیں پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود ایسے عناصر پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی علاقائی امن کے لیے بھی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ، یورپی یونین کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

تاہم پاکستانی حکام کے مطابق کابل میں طالبان انتظامیہ سے بارہا مطالبات اور اپیلوں کے باوجود ان خدشات کے ازالے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

پاکستان اور برطانیہ کے حالیہ مذاکرات کو اسی علاقائی سیکیورٹی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک نے افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خطرے کو مشترکہ تشویش قرار دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے محفوظ افغانستان کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

غزہ میں زخمیوں کا علاج کرنے والے سرجن آدم حموی امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا