سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم نے افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل) میں مینٹور بننے کی پیشکش مسترد کردی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی پالیسی کے احترام میں لیگ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم کو افغانستان پریمیئر لیگ میں مینٹورشپ کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے پی سی بی کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں:موت کی جھوٹی خبروں پر وسیم اکرم کا سخت ردعمل، فیک ویڈیوز بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا
واضح رہے کہ پی سی بی نے پہلے ہی پاکستانی کرکٹرز کو افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی پالیسی کے تحت وسیم اکرم نے بھی لیگ سے وابستہ نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب پاکستان کے سابق آل راؤنڈر اظہر محمود کو ٹیم پکتیا کا ہیڈ کوچ مقرر کردیا گیا ہے، جس کی قیادت رحمت شاہ کریں گے، جبکہ سابق کپتان اور فاسٹ بولر وقار یونس کو ٹیم کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر، جن کے پاس برطانیہ کا پاسپورٹ ہے، کو بھی منگل کو ہونے والی کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ میں قندھار واریئرز نے پلاٹینم کیٹیگری میں منتخب کرلیا۔
محمد عامر اس وقت انگلینڈ میں مقیم ہیں اور رواں سال مئی میں برطانوی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے ڈرافٹ میں برطانوی شہری کی حیثیت سے اندراج کرایا تھا۔ قندھار واریئرز نے انہیں اپنی پہلی ہی پک میں منتخب کیا اور افغانستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد نبی پر ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا منفرد انداز سوشل میڈیا پر وائرل
افغانستان پریمیئر لیگ کے کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ کے لیے 30 سے زائد پاکستانی کرکٹرز نے بھی رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں فخر زمان، صائم ایوب، حسن علی، شان مسعود، عبداللہ شفیق، فہیم اشرف اور عماد وسیم سمیت دیگر کھلاڑی شامل تھے۔
تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان مبینہ سفارتی کشیدگی کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت غیر یقینی ہونے کے سبب ڈرافٹ میں کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو منتخب نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بھی کہا گیا تھا کہ پی سی بی افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی جاری کرنے کا امکان نہیں رکھتا۔











