بجلی صارفین سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کی تیاری

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کے لیے نیپرا میں درخواست جمع کرا دی۔

مزید پڑھیں:نیپرا نے بجلی مزید مہنگی کردی، صارفین پر 16ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا

درخواست سال 2026 کی تیسری سہ ماہی، جولائی تا ستمبر کے لیے جمع کرائی گئی ہے۔ بجلی فی یونٹ کتنی مہنگی ہوگی، اس کا حتمی فیصلہ نیپرا کرے گا۔

درخواست میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 38 ارب 92 کروڑ روپے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس کی مد میں 5 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ روپے اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب انکریمنٹل پیکیج کے اثرات کی مد میں 29 ارب 25 کروڑ روپے کمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:بجلی صارفین پر اضافی چارجز یکساں لاگو ہوں گے، نیپرا نے بڑا فیصلہ کرلیا

جولائی تا ستمبر 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔

نیپرا درخواست پر 17 نومبر کو سماعت کرے گا، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا آپ کا بچہ آپ سے دور ہورہا ہے؟ ماہرین نے خطرے کی ابتدائی نشانیاں بتادیں

کیا اب کمپیوٹر پر بھی مفت 4K ویڈیوز ایڈٹ کر سکیں گے؟ انسٹاگرام نے بڑا سرپرائز دے دیا

عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھونچال، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی دباؤ کا شکار

فرانس میں کئی برس کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر امڈ آئے، حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

کم عمری کی شادی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟