انسانی چہرے کے حصوں پر مشتمل جاپانی بٹوے اور پرس

بدھ 8 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹوکیو: جاپانی ماہرنے انسانی چہرے اور دیگر اعضا پر کئی اہم اشیا بنائی ہیں جو ایک جانب تو دیکھنے میں بہت عجیب لگتی ہیں تو دوسری جانب عوام اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

ماساتاکا شیشیدو ایک عرصے سے انسانی خدوخال جیسے بٹوے، پرس، لاکٹ، پینڈنٹ اور مہریں وغیرہ بنائی ہیں۔ یہ دیکھنے میں عجیب اور انتہائی حقیقی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ پینڈنٹ پلکیں جھپکاتا ہے، انسانی انگلی کے سرے پر مہر لگائی ہے اور منہ نما بٹوہ بنایا ہے جس کے اندر انسانی دانت بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

اب ماساتاکا اپنے گلے میں مالا کی طرح ایک ہار پہنے رکھتے ہیں جس میں انسانی کھال کی رنگت کا ایک ایک گول پینڈنٹ پہنا ہوا ہے جس کے درمیان میں آنکھ کھلتی اور بند ہوتی ہے۔ 36 سالہ فنکار اسے ڈسکو گیند کہتے ہیں جو ایک زنجیر سے بندھی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کی مصنوعات آرڈر پر تیار کی جاتی ہیں اور غیرمعمولی طور پر بہت مہنگی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک پرس یا مہر کو بنانے میں دو سے تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ اگر آپ انگلی والی یوایس بی یا مہر بنانا چاہتے ہیں تو اس کی قیمت 4500 ڈالر ہوسکتی ہے جبکہ ڈسکو بال کی قیمت 1100 ڈالر تک وصول کی جاتی ہے۔

ان کے گاہکوں میں مشہور فنکار اور شخصیات بھی شامل ہیں کیونکہ ان کی مصنوعات حقیقت سے بہت قریب دکھائی دیتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان