اسٹیبلشمنٹ کے لیے کرپٹ لوگ زیادہ قابل قبول ہیں: شاہد خاقان عباسی

اتوار 26 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کاکہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے باکردار لوگوں کی نسبت کرپٹ لوگ زیادہ قابل قبول ہیں، پاکستان میں آئین تو موجود ہے لیکن اس کی بالادستی قائم کرنا بھی ضروری ہے،۔

لاہور لٹریچر فیسٹیول سے سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کا حل اسٹیبلشمنٹ کے پاس نہیں ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ تو خود پاکستان کے لیے ایک مسئلہ ہے، سیاست پر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اب سب کو مل کر آئین اورقانون کی بالادستی یقینی بنانا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی نظام میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، بیوروکریسی میں بھی متعلقہ وزارتوں کے مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں،یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ پارلیمنٹ میں کسے ہونا چاہیے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے، 50 فیصد سینیٹرز نشستیں خرید کر سینیٹ میں پہنچتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں آئین تو موجود ہے لیکن اس کی بالادستی قائم کرنا بھی ضروری ہے، ملکی سیاسی تاریخ میں صرف 4 لیڈرز ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور عمران خان آئے ہیں، اسٹیبلشمنٹ سمیت سبھی کو سیاسی معاملات حل کرانا ہوں گے، تا خیر ملکی مفادمیں نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات پر امریکی اور یورپی سرگرمیوں پر روس کو تشویش

اداکارہ مومنہ اقبال کے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے پر سنگین الزامات، مریم نواز سے ایکشن کا مطالبہ

کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کرگئی، عالمی ادارۂ صحت کا ہنگامی انتباہ

پاکستان نے قازق سرمایہ کاروں کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

سلہٹ ٹیسٹ: بارش سے متاثرہ آخری روز پاکستان 121 رنز کے تعاقب میں

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا