شہریوں کے اغوا میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکار ضمانت خارج ہونے پر گرفتار

پیر 27 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے  شہریوں کو اغوا برائے تاوان اور بھتہ وصولی کے کیس میں سی ٹی ڈی کے افسر شعیب قریشی کی ضمانت مسترد کردی ، جس کےبعد ملزم کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

ملزم شعیب قریشی نے ضمانت خارج ہونے پرعدالت سے فرار ہونے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق شعیب قریشی کو تحقیقاتی رپورٹ میں مجرم قرار دیا گیا ہے اور پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی بھی استدعا کی ہے۔

واقعے کی انکوائری رپورٹ کا عکس

کراچی کے علاقے بلال کالونی سے دو شہریوں فيضان اور سعد کو اغوا کرنے اور رشوت لے کر چھوڑنے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹيج بھی منظرعام پرآئی تھی جس ميں سادہ لباس اہلکاروں کو دکھایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ انچارج سی ٹی ڈی انٹیلی جنس شعیب قریشی پر شہری فیضان سے دو لاکھ 70 ہزارروپے اور سعد نامی شہری سے رہائی کے بدلے 25 لاکھ روپے رشوت طلب کرنے کا الزام ہے۔

سی ٹی ڈی اہلکار کے خلاف ایف آئی آر کا عکس

معطل ہونے والے انچارج سی ٹی ڈی شعیب قریشی کا موقف ہے کہ مذکورہ دونوں شہریوں کے خلاف زمینوں پر قبضے کاالزام ہے اور انہيں انٹیلی جنس رپورٹ پر گرفتار کيا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات پر امریکی اور یورپی سرگرمیوں پر روس کو تشویش

اداکارہ مومنہ اقبال کے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے پر سنگین الزامات، مریم نواز سے ایکشن کا مطالبہ

کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کرگئی، عالمی ادارۂ صحت کا ہنگامی انتباہ

پاکستان نے قازق سرمایہ کاروں کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

سلہٹ ٹیسٹ: بارش سے متاثرہ آخری روز پاکستان 121 رنز کے تعاقب میں

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا