حکومت یا کوئی ریاستی ادارہ عدلیہ کے آئینی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، اٹارنی جنرل

منگل 14 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اٹارنی جنرل آف پاکستان عثمان اعوان نے کہا ہے کہ ایک جج کے خط کی وجہ سے تاثر بن رہا ہے کہ عدلیہ میں مداخلت ہورہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہاکہ چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کا غلط تاثر لیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ ریاستوں کے کچھ حساس معاملات ہوتے ہیں، ایسا تاثر بنایا جا رہا ہے کہ جیسے اور عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تعلقات خراب ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت یا کوئی ریاستی ادارہ عدلیہ کے آئینی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ کسی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ سے براہِ راست رابطہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر شکایت کی تھی خفیہ اداروں کی جانب سے ان کے کام میں مداخلت کی جارہی ہے۔

آج ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے عدالتی امور میں مداخلت کی ایک اور شکایت کی ہے، جس میں انہوں الزام عائد کیا ہے کہ آڈیو لیکس کیس میں انہیں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے پیچھے ہٹنے کا کہا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کو لکھے خط میں جسٹس بابر ستار نے عدالتی امور میں مبینہ مداخلت کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاپ آفیشل کی جانب سے انہیں آڈیو لیکس کیس میں پیچھے ہٹنے کا پیغام دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں