کین فلم فیسٹیول: بھارتی اداکارہ کنی کسروتی نے تربوز کی شکل کا پرس اٹھا کر دنیا کو کیا پیغام دیا؟

پیر 27 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی اداکارہ کنی کسروتی نے کین فلم فیسٹیول کے ریڈکارپٹ پروگرام میں ایک خاص قسم کا پرس اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا جس پر ان دنوں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاصی بحث ہورہی ہے۔

کنی کسروتی کے ہاتھ میں تربوز کے قاش کی شکل کا ایک پرس تھا جس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار تھا۔

واضح رہے کہ تربوز فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے جو اس ملک کے پرچم کے رنگوں سرخ، سبز اور سیاہ اور سفید کو ظاہر کرتا ہے۔

اداکارہ نے امن کا پیغام دینے کے لیے سفید رنگ کا لباس بھی زیب تن کیا تھا جبکہ زیورات کے ذریعے انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستانی ہیں۔

کنی کسروتی نے کانز انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے 77 ویں ایڈیشن کے ریڈ کارپٹ پر تربوز کے ٹکڑے سے مشابہ کلچ رکھنے کے بارے میں کہا کہ پرس اور لباس کا انتخاب ذاتی اور سیاسی دونوں تھا۔

ان کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد ملیالم فلم انڈسٹری کے اداکاروں سمیت متعدد صارفین نے اپنے متعلقہ سوشل میڈیا ہینڈلز پر کنی کسروتی کی ہمت کو سراہا۔ اس دوران فلم کی کاسٹ اور عملہ ریڈ کارپٹ پر مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔ واضح رہے کہ ایسا 30 سال بعد ہوا ہے ہے کہ کسی ہندوستانی فلم نے کین فلم فیسٹیول میں پام ڈی آر ایوارڈ کے لیے مقابلہ کیا ہو۔

کنی کسروتی نے گراں پری جیتنے والے آل وی امیجن از لائٹ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے فرانس کے جنوب سے اپنی آبائی ریاست کیرالہ جانے والی پرواز پر دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ’میرے بہت سے فلسطینی دوست ہیں اور ہم خطے میں تنازعات کے بارے میں سنتے رہتے ہیں اس لیے میرے لیے اظہار یکجہتی اہم تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کین جیسے بڑے تہواروں میں سیاسی بیانات بہت کم ہوتے ہیں۔

کسروتی نے کہا کہ تربوز کی شکل کے پرس کے ذریعے ہی انہوں نے اپنا مؤقف بیان نہیں کیا ہے بلکہ اس سے قبل انہوں نے جہاں ضرورت تھی وہاں یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟