کراچی: ممنوعہ انجیکشن کی فیکٹری پر چھاپہ، 60 لاکھ روپے کا مال ضبط

بدھ 5 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ ) کی ٹیم نے کلفٹن کے علاقے سے متصل چانڈیو گاؤں میں ایک فیکٹری پر چھاپہ مار کر ممنوعہ بوسٹن انجیکشنز ضبط کرلیے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ضبط شدہ ممنوعہ انجیکشنز کی کل مالیت تقریباً 60 لاکھ روپے ہے۔ فیکٹری مالک نعمان سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے ترجمان نے بتایاکہ چھاپے کے دوران ممنوعہ بوسٹن انجیکشن بنانے کے لیے استعمال ہونے والے خالی کارتوس، سوئیوں کا کنٹینر، بڑی مقدار میں خام مال، پیکنگ میٹریل یعنی اسٹیکرز و ٹیپنگ، سولڈرنگ گن، ہیٹنگ مشینیں اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ انجیکشن جانوروں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ ممنوعہ اور جانوروں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔

ایف آئی اے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ان انجیکشنز کے استعمال سے صارفین کینسر، مہلک نقصان، پیدائشی نقائص، ہارمون سے متعلق مسائل اور دیگر  موذی بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

شارجہ سے کراچی آنے والا پاکستانی کارگو کمپنی کا طیارہ لاپتا، تلاش کا عمل شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

ویڈیو

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش