آکسفورڈ یونین کا صدر بننے والا اسرار کاکڑ، قلعہ عبداللہ سے آکسفورڈ یونیورسٹی تک کیسے پہنچا؟

پیر 10 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رقبے کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا اور ترقی کے لحاظ سے پست ترین صوبہ بلوچستان کئی ایسے سپوتوں کو جنم دے چکا ہے جنہوں نے اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا۔

حال ہی میں بلوچستان کے پسماندہ علاقے قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان سے تعلق رکھنے والے اسرار ترین دنیا کی سب سے بڑی جامعہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والے یونین کے انتخابات میں 617 ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوئے۔

صدر منتخب ہونے کے بعد اپنی تقریر میں اسرار کاکڑ نے کہاکہ آکسفورڈ یونین کے ممبران کا انتہائی شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔ انتہائی پسماندہ گاؤں سے یہاں تک پہنچنا میرے لیے اعزاز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان اور میرے خاندان کے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ میں یونین کو مزید جامع راستے پر لے جانے اور اس کی مطابقت کو بحال کرنے کے لیے پر عزم ہوں۔

اسرار کاکڑ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ بلوچستان کے پہلے جبکہ پاکستان کے تیسرے ایسے طالب علم ہیں جو آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے اسرار کاکڑ نے بتایا کہ میرا خاندان گلستان میں رہائش پذیر ہے جہاں میرے والد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ہم ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مجھ سمیت میری بہنوں اور بھائیوں کی تعلیم کا بیڑا میرے بڑے بھائی اختر کاکڑ نے اٹھایا اور محنت مزدوری کرکے ہمیں پڑھایا۔

اسرار کاکڑ نے بتایا کہ میری ابتدائی تعلیم قلعہ عبداللہ میں واقع ٹاٹ کے اسکول سے ہوئی، بعدازاں میں کوئٹہ گیا اور اسکالرشپ پر ایبٹ آباد بورڈنگ اسکول سے اپنی بنیادی تعلیم مکمل کی۔

انہوں نے کہاکہ انٹر کی تعلیم کے لیے میں گورنمنٹ کالج لاہور گیا جہاں سے امریکا کے ایکسچینج پروگرام کے تحت ایک سال امریکا میں تعلیم حاصل کی اور بعدازاں اسکاٹ لینڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور بار ایٹ لا لنکن یونیورسٹی سے کیا۔ اور اب آکسفورڈ یونیورسٹی سے لا کی پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہا ہوں۔

اسرار کاکڑ نے یونین کا صدر منتخب ہونے کے بعد روایتی پشتون لباس زیب تن کیا اور پہلی تقریر کی۔

واضح رہے کہ اسرار کاکڑ سے قبل محترمہ بینظیر بھٹو اور احمد نواز آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کے صدر منتخب ہوچکے ہیں۔

آکسفورڈ یونین کی تاریخ اور اہمیت

آکسفورڈ یونین سوسائٹی، جسے عام طور پر آکسفورڈ یونین کہا جاتا ہے انگلینڈ کے شہر آکسفورڈ میں ایک مباحثہ کرنے والی سوسائٹی ہے جس کی رکنیت بنیادی طور پر آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

1823 میں قائم کی گئی یہ برطانیہ کی قدیم ترین یونیورسٹی یونینز میں سے ایک ہے اور دنیا کی سب سے باوقار پرائیویٹ طلبہ کی تنظیموں میں سے بھی ایک ہے۔ آکسفورڈ یونین یونیورسٹی سے آزادانہ طور پر موجود ہے اور یہ آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین سے الگ ہے۔

آکسفورڈ یونین کی ایک روایت ہے کہ وہ سیاست، اکیڈمی اور مقبول ثقافت میں دنیا کے چند ممتاز ترین افراد کی میزبانی کرتی ہے جن میں البرٹ آئن سٹائن اور مائیکل جیکسن سے لے کر سر ونسٹن چرچل، رونالڈ ریگن، ملکہ الزبتھ دوم اور مہاتیر محمد شامل ہیں۔

یونین کے بہت سے سابق صدور برطانیہ، دولت مشترکہ اور پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں ولیم گلیڈ اسٹون، ٹیڈ ہیتھ، بورس جانسن اور بینظیر بھٹو شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان