بغاوت کے قانون کو غیر آئینی قرار دیے جانے کا تفصیلی فیصلہ جاری

جمعہ 7 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے  بغاوت کے قانون 124 اے کو غیر آئینی قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

درخواست گزار ابوذر سلمان نیازی کی درخواست پر بغاوت کے قانون کو کالعدم قرار دیے جانے کا 48 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس شاہد کریم نے تحریر کیاہے۔

عدالت نے بغاوت کے قانون کو غیر آٸینی اور کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغاوت کا قانون 124 اے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم ہے۔

فیصلہ میں کہا گیا ہےکہ 124اے بنیادی حقوق  کے بھی خلاف ہے اس لیے غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ 124 اے کی موجودگی آزاد میڈیا کے لیے خطرہ ہے۔

’اگر اس قانون کو بحال رکھا جاتا ہے میڈیا اور ذرائع ابلاغ بھی اسکی زد پہ آ سکتے ہیں۔ میڈیا کا کام عوام کو مطلع کرنا ہے اس قانون کی موجودگی میں میڈیا یہ کام نہیں کر سکتا۔‘

تحریری فیصلہ میں بغاوت کے قانون کو نوآبادیاتی دور کی نشانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 124 اے کا قانون سیاسی تحریر و تقریر کو بھی محدود کر دیتا ہے جو  ایک آزاد جمہوریت کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔

’بے بنیاد اور جھوٹی اطلاعات روکنے کے لیے اب  وقت آ گیا ہے کہ ہتک عزت قانون کو مضبوط کیا جائے۔‘

علامہ اقبال کے مندرجہ ذیل شعر کو بھی عدالتی فیصلہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ  سے ہے نمود

کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کھیل میں بھی سیاست، ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

ڈراما سیریل’ڈاکٹر بہو‘ کیوں مشہور ہو رہا ہے؟، ہدایتکار مہرین جبار نے وجہ بتادی

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کفایت شعاری مہم کے تحت نئی پابندیاں، وفاقی وزرا کا پیٹرول کوٹہ نصف کردیا گیا، اعظم نذیرتارڑ

300 ارب روپے کے بلا سود قرضے، وفاقی حکومت نے کاشتکاروں کے لیے بڑا اعلان کردیا

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں