وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول بھٹو زرداری

ہفتہ 12 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ قائداعظم نے سب سے پہلے وفاقی آئینی عدالت کی تجویز پیش کی، وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ وفاقی آئینی عدالت کی تفصیل 27 اکتوبر 1931 کو لندن میں منعقدہ گول میز کانفرنس میں پیش کی تھی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 1931 میں پیش کردہ تجویز تقریباً پی پی پی کی پیش کردہ تجویز سے مماثلت رکھتی ہے، قائداعظم نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے وفاقی آئینی عدالت، ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے لیے سپریم کورٹ اور ایک فوجداری اپیل کی عدالت کی تجاویز دیں۔

مزید پڑھیں: فرد واحد کے پاس سب اختیارات مسائل کی وجہ ہیں، سب اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے کہا کہ کوئی بھی سوال جو وفاقی آئین سے متعلق ہو یا آئین سے پیدا ہو، اسے وفاقی عدالت میں جانا چاہیے۔ قائداعظم نے ایک ہی عدالت کو وفاقی قوانین پر وسیع دائرہ اختیار دینے کی بھی مخالفت کی۔ قائداعظم نے کہا کہ میں یہ مؤقف رکھتا ہوں کہ کسی بھی شہری کو، اگر اس کے حق پر حملہ کیا جائے یا اسے چیلنج کیا جائے، ظاہر ہے کہ یہ آئین سے متعلق ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ قائداعظم نے کہا کہ شہری کے حقوق پر حملے کا معاملہ براہ راست وفاقی عدالت میں جانے کا حق حاصل ہونا چاہیے، قائداعظم نے کہا کہ اس طرح کی حد بندی کے ساتھ، وفاقی عدالت اتنی زیادہ مصروف نہیں ہوگی، اور اس لیے مقدمات کو جلد نمٹایا جا سکے گا۔

قائداعظم کے مطابق اس عدالتی نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ الگ وفاقی عدالت کی تقرری کے دوران ایسے افراد کا انتخاب کریں جو آئینی معاملات میں خاص مہارت رکھتے ہوں، تو آپ ایسا نظام قائم کریں گے جو سب سے زیادہ قابل ترجیح ہوگی۔

’قائد اعظم نے گول میز کانفرنس میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ماہرین کا دور ہے اور ہندوستان میں ہم ابھی اس سطح پر نہیں پہنچے ہیں‘۔

بلاول بھٹو نے لکھا کہ قائداعظم نے گول میز کانفرنس میں آئینی عدالت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ صبح کے وقت آپ ہندو قانون کے ایک پیچیدہ سوال پر دلائل دے رہے ہوتے ہیں، اور دوپہر میں آپ روشنی اور ہوا اور آسانی کے معاملات پر بحث کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے یقین نہیں کہ جسٹس منصور علی شاہ باقی ججوں کو کنٹرول کرسکیں، بلاول بھٹو زرداری

’اگلے دن آپ ایک تجارتی مقدمے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور تیسرے دن آپ شاید ایک طلاق کے مقدمے سے نمٹ رہے ہوتے ہیں، اور چوتھے دن آپ ایک ایڈمرلٹی مقدمے کی سماعت کررہے ہوتے ہیں‘۔

سابق وزیر خارجہ نے لکھا کہ یہ قائداعظم کی جانب سے عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ کو کم کرنے کا حل تھا جو ان کو دیے گئے وسیع دائرہ اختیار کی وجہ سے تھا، قائداعظم کی تجاویز بعد میں جرمنی کے 1949 کے بنیادی قانون سے بھی مماثلت رکھتی تھیں جس نے وفاقی آئینی عدالت قائم کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

 ایلون مسک کو بڑا سیاسی دھچکا، 47 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ری پبلکن امیدوار ہار گئے

امریکا میں ترقی پسند سیاست کا نیا دور شروع ہوگیا، میئر نیویارک کا دعویٰ

شکست کی ساری ذمہ داری مجھ پر کیوں؟ پاکستان کے فٹ کھلاڑی بھی بھارت کے خلاف 120 رنز نہ کرسکے، اعظم خان

ناسا کی دوربین کا غیر متوقع اختتام، خلائی ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا