حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے، حامد رضا خان

جمعہ 13 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت پہلے بھی کوئی قابل عمل چیز سامنے لے آتی تومذاکرات کے لیے تیار تھے، صاحبزادہ حامد رضا

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد رضا خان نے کہ محمود خان اچکزئی کافی عرصے سے اسلام آباد نہیں تھے وہ بلوچستان میں موجود تھے، ہم مشاورت کے لیے ان کے پاس ائے ہیں۔

یہ بات سننے میں آئی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کرنے جارہی ہے، یہ بات کتنی درست ہے؟ صحافی کے اس سوال کے جواب میں حامد رضا خان نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی ہے، حکومت اگر مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے، نہیں کرنا چاہتی تو بھی ٹھیک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سے باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے، صرف دعا سلام ہوئی، شیرافضل مروت

ابھی تک کوئی مذاکراتی دور ہوا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی شیرافضل مروت نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کے حکومت سے باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے نلکہ صرف دعا سلام ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ن لیگ کا اہم اجلاس طلب کر لیا

آزاد کشمیر میں گڈز ٹرانسپورٹ سروس معطل، اشیائے ضروریہ کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا

پاکستان مزید عالمی بانڈز جاری کرنے کی تیاری میں، ایران معاہدے سے معیشت کو بہتری کی امید، وزیر خزانہ

کیا بشریٰ انصاری نے خوبصورتی کے لیے لپ فلرز کروائے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش، آئی ایم ایف کا انتباہ

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ