شیرافضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دیا نہ ان سے وضاحت مانگی، بیرسٹر گوہر

بدھ 18 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ پارٹی کے کچھ افراد وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں، نہ کسی ایم این اے نے دوسرے ایم این کے خلاف کوئی بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر سے اختیارات واپس، حکومت سے مذاکرات کے لیے ڈیڈ لائن دے دی گئی

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جتنے بھی ایم این ایز ہیں ان کو اور ان کی فیملیز کو تحفظ حاصل ہو، اس حوالے سے ہم نے اپنی بات فلور آف دی ہاؤس حکومت کے نمائندوں کے سامنے رکھی ہے۔

آپ نے  بات کی ہے کہ کچھ لوگ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں؟ صحافی کے سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کسی نے یہ بات نہیں کی، کسی نے یہ لفظ نہیں کہا کہ کچھ لوگ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، نہ کسی ایم این نے کسی دوسرے ایم این کے خلاف بات کی ہے۔

حکومتی نمائندگان سے مذاکرات کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا۔ ’ہم نے مذاکراتی کمیٹی بنالی ہے، جس کی سربراہی عمرایوب کررہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ہم سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر سے کسی نے وضاحت نہیں مانگی، نہ شیرافضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بیان دیا ہے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کے اجلاس کی اندرونی کہانی کے حوالے سے میڈیا پر خبریں زیرگردش تھیں کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کے کل خطاب سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور ان کے بیان پر تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سے باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے، صرف دعا سلام ہوئی، شیرافضل مروت

اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے کہا کہ شیرافضل مروت کا یہ بیان نہ پارٹی پالیسی کے مطابق ہے اور نہ پارٹی کا بیانیہ ہے، شیر افضل مروت سے پارٹی نے اس بیان کی وضاحت طلب کی ہے۔

یہ بھی دعویٰ کیا جارہا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہرنے کہا ہے کہ کچھ اراکین وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہے ہیں، جو اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دیتے ہیں ان کی نشاندہی کرنی چاہیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں کل حکومتی وزرا کے خطاب کے دوران شیر افضل مروت نے بات کرنے سے روکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ بار انتخابات، صدر سمیت اہم عہدوں کے امیدواروں کی عبوری فہرست جاری

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی