ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی کامیابی کے باوجود سابق کھلاڑی تنقید کیوں کررہے ہیں؟

اتوار 19 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے ملتان ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 3 دن میں شکست سے دوچار کیا ہے۔ مہمان ٹیم 19 سال بعد پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئی ہے جبکہ اس میچ میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیم کی ہوم گراؤنڈ میں فتوحات کا سلسلہ بھی آگے بڑھا ہے، تاہم بعض سابق قومی کرکٹرز ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی اس کامیابی کے باوجود تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔

سابق کرکٹر اور تجزیہ کار سکندر بخت نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں گیند بہت زیادہ اسپن ہورہی تھی، پاکستان کی اننگز دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ بیٹرز نے 75 فیصد سویپ شاٹس کھیلے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملتان ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز کو پاکستان کے ہاتھوں 127 رنز سے شکست، ساجد خان کی 9 وکٹیں

انہوں نے پچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہماری کرکٹ کا یہی مستقبل ہے کہ ہم مہمان ٹیموں کو بلائیں گے اور ہمارے 40 سال اور 32 سال کے اسپنرز وکٹس لیا کریں گے، ہم پنکھوں اور ہیٹر کی مدد سے پچز تیار کریں گے اور جب ہم باہر جائیں گے تو ہمارے پاس فاسٹ بولرز نہیں ہوں گے۔

سکندر بخت کا کہنا تھا کہ کیا ہم ایسی ہی کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں، اس سے یہ نہ ہو کہ ہمارا رینکنگ میں نمبر 8 سے 9 پر نہ نہ چلا جائے، سوال یہ ہے کہ ہمارے فاسٹ بولرز کہاں گئے، ان سب کو کیا ہوگیا ہے، 21 سالہ نسیم شاہ اور 23 سالہ شاہین آفریدی باہر بیٹھے ہیں، اس کے علاوہ ہمارے پاس کون ہے، حارث رؤف ہی بچے ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔

سابق کرکٹر تنویر احمد نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر پاکستان میں فاسٹ بولرز کی کرکٹ ختم ہوگئی تو اس کے ذمہ دار عاقب جاوید، اظہر علی اور اسد شفیق ہوں گے،ا سپنرز کی مدد سے میچ جیت کر اس وقت ہمیں بہت اچھا لگ رہا ہے لیکن ہم فاسٹ بولرز کے نام کو ختم کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سلیکٹرز پاکستان کے فاسٹ بولرز کو پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی ہوم گراؤنڈ میں ٹیسٹ کرکٹ ختم ہوگئی ہے اور وہ اب صرف ٹی20 یا ایک روزہ کرکٹ کھیلنے کے بارے میں ہی سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی لوگ پھر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فاسٹ بولرز نہیں ہے۔

تنویر احمد نے کہا کہ فاسٹ بولرز کو ہم نے نہیں بلکہ انہوں نے ہی اپنے آپ کو بچانا ہے، فاسٹ بولرز فاسٹ پچز پر پرفارم نہیں کر پاتے حالانکہ انہیں کئی مواقع دیے گئے اور ان کی ٹائپ کی پچز بہت مرتبہ دی گئیں، دوسری طرف اسپنرز کو اسپن پچ دیں تو وہ پرفارم کرتے ہیں۔

دوسری جانب سابق کرکٹر شعیب مقصود نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سوال کیا کہ پاکستان ہوم گراؤنڈ میں آخری بار کب جیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان ہوم گراؤنڈ پر جیت رہا ہے تو سب کو فاسٹ بولرز کا خیال آگیا۔ شعیب مقصود کا کہنا تھا کہ ہماری ڈومیسٹک کرکٹ میں اسپنرز 15 سال سے گرین پچز پر مشکلات جھیل رہے ہیں، اس وقت تو اس بارے میں کوئی نہیں بولا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 127 رنز سے شکست دیکر سیریز میں 0-1 سے برتری حاصل کرلی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!