ترسیلات زر میں مسلسل اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

جمعرات 13 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارت خزانہ کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ سامنے آرہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو پاکستان کے لیے ایک خوش آئند پہلو ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کی وجوہات ہیں کیا اور کیا اب بھی ایسی گنجائش موجود ہے جس سے ان میں مزید اضافہ ہو سکے؟

اس حوالے سے اورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے وائس پریزیڈنٹ محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ گزشتہ 4 ماہ سے دیکھا جا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ گاکل ائیر 2024-25 جون تک 35 ارب ڈالر پر پہنچ جائیں گے۔

محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ سے رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو رہا ہے اس میں ترسیلات زر زیادہ آتے ہیں پھر عید آئے گی مزید بڑھیں گے اور صرف جنوری کے مہینے میں ہماری کلوزنگ 3 ارب ڈالر پر ہوئی ہے تو آنے والے 3 چار ماہ میں یہ توقعہ ہے کہ ہم مالیاتی سال کے اختتام پر کلوزنگ 35 ارب ڈالر پر کر لیں گے۔

مزید پڑھیں: سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ، سعودی عرب سرفہرست

محمد عدنان پراچہ نے اسکی وجوہات یہ بتائیں کہ اوور سیز پاکستانیوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے پاکستان پر اور وہ یہ بات تسلیم کر چکے کہ ہم نے سرمایہ پاکستان میں ہی لگانا ہے، انکا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اب سرمایہ لگانے کے لیے پلیٹ فارمز کھل رہے ہیں جو ایک سال پہلے نہیں تھے۔

محمد عدنان پراچہ کے مطابق اس وقت بھی 7 سے 8 ارب ڈالر ترسیلات زر میں اضافہ ہوسکتا ہے، سعودی عرب سے 25 سے 27 فیصد ترسیلات زر آرہی ہیں متحدہ عرب امارت سے 20 سے 21 فیصد آرہی ہے سب سے زیادہ سعودی عرب سے افرادی قوت ترسیلات زر بھیج رہے ہیں اور یہ 35 سے 37 فیصد جا سکتا ہے۔

محمد عدنان پراچہ کہتے ہیں کہ گلف ممالک پر توجہ دینے کے لیے ہم نے حکومت پاکستان کے سامنے سفارشات رکھی ہیں اگر ان پر عمل ہو جاتا ہے تو ترسیلات زر بڑھ جائیں گی دوسرا یہ کہ جن مسائل کا سامنا اس وقت ہماری افرادی قوت کو گلف ممالک میں جانے کے لیے کرنا پڑ رہا ہے ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: جس نے بھی ترسیلات زر کے بائیکاٹ کا مشورہ دیا اس میں سمجھ کی کمی ہے، خواجہ آصف

محمد عدنان پراچہ کے مطابق ہمارے ترسیلات زر اصل میں تھی ہی یہی اس میں کمی واقعہ ہوگئی تھی اور اب بھی اس میں اضافے کی گنجائش موجود ہے، حوالہ ہنڈی کے خلاف کریک ڈاؤن سے اس میں بہتری آئی دوسری جانب ہم نے دیکھا کہ امریکی ڈالر اور پاکستانی روپیہ میں استحکام آیا ہے، اس سے قبل ڈالر اور پاکستانی روپے میں 5 روپے کا فرق آتا تھا جس کی وجہ سے غیر قانونی راستے کھلنے کے امکانات زیادہ ہوجاتے تھے جو اب نا ہونے کے برابر ہے اب ترسیلات زر بنکوں کے زریعہ آرہے ہیں جا کی وجہ سے یہ اپنی اصل حالت میں واپس آگئے ہیں۔

محمد عدنان پراچہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت پاکستان اس وقت اپنی پالیسیاں بہتر بنا دے تو بہت بہتری کی گنجائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 فیصد افرادی قوت مزدور ہے۔ ان کے لیے پراجیکٹس لانچ کیے جائیں ان کی آسانی کے لیے ایسا میکینزم ہو کہ وہ اپنے کمرے میں ایک کلک سے رقم پاکستان بھیج سکیں اور آدھے گھنٹے میں وہ رقم ان کے گھر والوں تک پہنچ جائے۔ اس کے ساتھ کم خرچ ہاؤسنگ اسکیمز اوورسیز پاکستانیوں کے لیے شروع کرنے کی ضرورت ہے ایسی سوسائیٹیز جس کی ضمانت حکومت پاکستان خود دے اور ان کے لیے ایسے مقامات دیکھے جائیں جن علاقوں سے زیادہ پاکستانی باہر جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نہار منہ زیتون کا تیل پینا کیا واقعی بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتا ہے؟

ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز چیمپیئن شپ 2026 کے شیڈول کا اعلان، پاک بھارت ٹیمیں 22 نومبر کو آمنے سامنے ہوں گی

برطانیہ میں گھڑیاں پیچھے، پاکستان سے وقت کا فرق کتنے گھنٹے ہوگا؟

صدرآصف علی زرداری کا دورہ جرمنی، سیمنز کا شعبۂ صحت میں تعاون، مفاہمتی یادداشتوں کے لیے جلد پاکستان آنے کا اعلان

لاہور: بارش اور ژالہ باری، فضائی آلودگی میں قدرے کمی آگئی

ویڈیو

اسلام آباد میں بارش کے بعد ملک بھر میں کہاں برسات کا امکان ہے؟

عالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ، معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیر خزانہ

بابر اعظم اور شاداب خان توقعات پر پورے نہیں اتر رہے، شاہین آفریدی بہتر کپتان ہیں، ماجد بھٹی

کالم / تجزیہ

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟

باغ جل رہا ہے