ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی کے بعد وہاں کی مساجد مشکل کا شکار ہیں تاہم اس کا انہوں نے ایک توڑ نکال لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کا ’اذان‘ پر نیا وار، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی
بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پولیس نے مساجد کو روکا تھا جس کے بعد مساجد کے منتظمین جدید ٹیکنالوجی سے مدد لینی شروع کردی ہے۔
ممبئی بھر کی نصف درجن مساجد نے اذان آن لائن نامی ایپلی کیشن کا استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ نمازیوں کو ریئل ٹائم اذان سنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
مذکورہ ایپلی کیشن انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مسلمان ماہرین نے تیار کی ہے جن کا تعلق ریاست تامل ناڈو سے ہے۔ یہ ایپ نمازیوں کو اذان ہونے کے وقت ریئل ٹائم میں اذان سنننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: بھارت: ہولی کے موقع پر مساجد ترپال سے ڈھک دی گئیں
اس ایپلی کیشن کے ذریعے مساجد کو رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے جس کے بعد مذکورہ مساجد کے ارد گرد کے نمازی مسجد کے اذان کے وقت اپنے موبائل پر ریئل ٹائم میں اذان سن سکتے ہیں۔
ایپلی کیشن فیچرز کے تحت نمازیوں کو بھی ایپلی کیشن میں رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے اور انہیں اپنے علاقے اور مسجد کا نام بھی ظاہر کرنا پڑتا ہے جس کے بعد انہیں مقررہ وقت پر موبائل میں اذان سننے کو ملتی ہے۔
یاد رہے کہ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے خلاف بھارتی جنتا پارٹی کے رکن کیرت سومیا نے مہم شروع کی تھی اور انہوں نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو صوتی ’صوتی آلودگی‘ سے جوڑا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی مہم کے بعد مساجد سے 1500 سے لاؤڈ اسپیکرز اتارے جا چکے ہیں۔
اذان سے صوتی آلودگی نہیں پھیل رہی، عدالت نے وجہ بتادی
ان کی مہم کے خلاف علما نے بمبئی ہائیکورٹ سے رجوع بھی کیا تھا اور عدالت نے جنوری 2025 میں قرار دیا تھا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا ایک حد تک استعمال صوتی آلودگی میں شمار نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ایک اور مسجد ہندوؤں کے نشانے پر، 3 مسلمان نوجوان شہید
عدالت کے مطابق مساجد میں دن کے وقت لاؤڈ اسپیکرز کی اسپیڈ 55 ڈیسیبل اور رات میں 45 ڈیسیبل تک ہو تو پھر وہ صوتی آلودگی کا سبب نہیں بنتے۔
عدالتی فیصلے کے بعد ممبئی پولیس نے مبینہ طور پر مساجد منتظمین پر لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو ترک کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالتی رہی جس کے بعد اب اذان ایپلی کیشن کا استعمال شروع کردیا گیا ہے۔














