کشمیری دستکاری: وقت کی گرد میں گم ہوتا ہوا فن

منگل 26 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مظفرآباد کی گلیوں اور بازاروں میں آج بھی کشمیری ثقافت کی چند دھندلی سی جھلکیاں باقی ہیں۔

35 سال قبل سری نگر سے آنے والے لوگ اپنی آنکھوں میں آزادی کا خواب اور اپنی انگلیوں میں صدیوں پرانا ایک  ہنر، ایک کلا بسا کر  لائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا مزاحمت کاروں کے خلاف 12 روزہ طویل آپریشن ناکام، 9 فوجی ہلاک

یہ ہنر ان کے لیے صرف معاش کا سہارا نہیں بنا بلکہ اس کے ذریعے انہوں نے کشمیری روایات اور ثقافت کو بھی زندہ رکھا۔ ان کے ہاتھوں سے تراشے گئے پھیرن، شالیں اور آرائشی اشیا نہ صرف پاکستان  بلکہ دنیا بھر میں   کشمیر کی پہچان ہیں۔

مگر اب یہ  ہنر اور یہ روایت وقت کی گرد میں مٹتی جا رہی ہے۔ نئی نسل نہ تو اس فن میں دلچسپی رکھتی ہے اور نہ ہی اسے روزگار کا پائیدار ذریعہ سمجھتی ہے۔

مزید پڑھیے: مقبوضہ کشمیر: پی آئی اے کے لوگو والے غبارے نے بھارتی حکام کی دوڑیں لگوا دیں

مہنگائی، مشینی پیداوار، حکومتی عدم توجہی اور بدلتے رجحانات نے اس دستکاری کو  کمزور کر دیا ہے۔ کشمیر کی پہچان تراشنے والے ہاتھ آہستہ آہستہ گم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ فن جو کبھی شناخت اور روزگار دونوں تھا، دھیرے دھیرے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ دیکھیے جنید خواجہ کی یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟