بھارت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے گی اور قومی سلامتی کو ہر حال میں مقدم رکھے گی۔
وزارتِ خارجہ (MEA) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا ہے
’ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کی رپورٹس دیکھی ہیں۔ حکومت اس پیشرفت سے باخبر تھی جو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تھی۔
Our response to media queries on reports of the signing of a strategic mutual defence pact between Saudi Arabia and Pakistan
🔗 https://t.co/jr2dL0L4xP pic.twitter.com/Exlrm4wBEw— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) September 18, 2025
انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے کے اثرات کا مطالعہ کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ ہماری قومی سلامتی، خطے اور عالمی استحکام پر کس طرح اثرانداز ہوگا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت قومی مفادات کے تحفظ اور ہر سطح پر جامع سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘
پاکستان سعودی عرب کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ
یادر ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان گزشتہ روز ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی باہمی دفاعی معاہدہ طے پا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ریاض کے الیمامہ پیلس میں وزیراعظم پاکستان کا استقبال کیا۔ اور دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ اجلاس منعقد کیا۔
اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے خیرمقدم کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا اور تبادلہ خیال کیا۔
مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان قریباً 8 دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارہ اور اسلامی یکجہتی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں ولی عہد و وزیرِاعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے۔

یہ معاہدہ جو دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے اور پاکستانی وفد کے پرتپاک استقبال اور فراخدلی سے مہمان نوازی پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی عرب کے برادر عوام کے لیے مسلسل ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ولی عہد نے وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف کی اچھی صحت، تندرستی اور پاکستان کے برادر عوام کی مزید ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف آج سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب پہنچے تھے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ان کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزرا بھی موجود ہیں۔
وزیراعظم کا طیارہ جونہی سعودی عرب کی فضا میں پہنچا تو سعودی ایئر فورس کے جنگی جہازوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا اور ایئرپورٹ تک ساتھ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب میں پرتپاک استقبال، 21 توپوں کی سلامی، سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف کا ریاض پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا اور 21 توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ شہر میں سبز ہلالی پرچم بھی لہرائے گئے۔












