معروف سوشل میڈیا اسٹار ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے حال ہی میں اپنے قریبی دوست حارث کھوکھر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو کر اپنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ دونوں کی نکاح کی تقریب معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس تقریب کے حوالے سے مختلف آراء اور تنازعات سامنے آئے۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان کے نکاح کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان ویڈیوز میں مولانا طارق جمیل کو دلہن کے ساتھ بیٹھے دیکھا گیا، جس پر بعض صارفین نے سوالات اٹھائے کہ آیا یہ طرزِ عمل مناسب تھا یا نہیں۔
View this post on Instagram
اسی حوالے سے مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے یوسف جمیل نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے زندگی میں ہزاروں نکاح پڑھائے ہیں اور وہ دلہنوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لڑکیاں نکاح پڑھوانے آتی ہیں ان کو ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے شرعاً اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن مولانا ان کے لیے بزرگ کی مانند ہیں وہ کسی خواہش کی عمر میں نہیں ہیں۔ میرے والد اب بزرگ ہیں اور کسی کو منع نہیں کرتے۔
مولانا یوسف جمیل نے مزید کہا کہ وہ ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی جانب سے حد سے تجاوز ہوا ہے جو کہ نا مناسب تھا۔ انہوں نے اس چیز کا بالکل خیال نہیں رکھا کہ ان کا نکاح کون پڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیڑھ کروڑ کے زیورات اور ایک کروڑ کا لباس، مولانا طارق جمیل نے نکاح پڑھایا، ڈاکٹر نبیہہ کی شادی توجہ کا مرکز
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نبیحہ نے اپنی خوشی کا اظہار کیا، مگر چونکہ تقریب مولانا کے گھر پر تھی، اس لیے انہیں وہاں گانے بجانے اور ویڈیوز بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے تھا۔ اب اس سب کا پریشر مولانا طارق جمیل کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ تو میری گزارش ہے کہ تنقید ضرور کریں لیکن یہ بھی دیکھیں کہ کرنے والا کون ہے۔
مولانا طارق جمیل تو ڈاکٹر نبیحہ کو جانتے بھی نہیں تھے انہیں تو ایک دوست نے کہا کہ ایک ڈاکٹر ہیں ان کا نکاح پڑھا دیں جس کی انہوں نے حامی بھر لی انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ بعد میں ایسا کچھ ہو گا۔ اگر انہیں اس چیز کا علم ہوتا تو وہ منع کر دیتے۔














