سولر سسٹمز کی پیداوار گرڈ کی طلب سے تجاوز کرجائے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی

پیر 24 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سیکریٹری عائشہ موریانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار اگلے سال دن کے اوقات میں بعض بڑے صنعتی علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی بجلی قومی گرڈ کی طلب سے زیادہ ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سولر صارفین کا رجحان آف گرڈ سولر سسٹم کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟

عائشہ موریانی نے کوپ 30 کانفرنس کے موقعے پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران سولر پینلز کی تنصیبات میں بے مثال اضافہ ہوا ہے جس سے اخراجات اور بجلی کے بل کم ہوئے لیکن ساتھ ہی گرڈ پر مبنی بجلی کی طلب میں کمی کے باعث خسارے میں ڈوبی پاور کمپنیوں کے مالی معاملات مزید خراب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ اوقات میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب منفی ہو جائے گی کیونکہ گھروں اور صنعتوں میں نصب سولر سسٹمز کی پیداوار مکمل طور پر گرڈ کی کھپت کو بدل دے گی۔

عائشہ موریانی کے مطابق لاہور میں سب سے پہلے منفی طلب دیکھنے کا امکان ہے جہاں سولر پینٹریشن سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھی یہی رجحان دیکھا جائے گا جہاں صنعتی علاقوں میں سولر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیے: اب سولر کو آپ بھول جائیں، امریکی ’انورٹر بیٹری‘ نے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا

بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹیرف میں اضافے نے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں سولر اپنانے کے رجحان کو تیز کیا ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کنندہ بن گیا ہے اور اس کی سولر پیداواری شرح ہمسایہ چین سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی دوپہر، صنعتی تعطیلات اور معتدل موسموں میں جب سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے ایسے منفی طلب کے واقعات مزید بڑھ جائیں گے۔

عائشہ موریانی نے کہا کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ قابل تجدید توانائی کتنی بڑھے گی بلکہ یہ ہے کہ گرڈ، ضابطہ جاتی فریم ورک اور مارکیٹ ڈیزائن کس رفتار سے اس کے مطابق ڈھلتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سستے سولر پینل کی تیاری آغاز، بجلی کے بلوں سے پریشان صارفین کے لیے بڑا ریلیف

پاکستان بڑے سولر صارفین کے لیے نئے ٹیرف لانے اور فیس ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے، تاکہ سولر استعمال کرنے والے صنعتی یونٹس بھی گرڈ کے اخراجات میں حصہ ڈالیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب میں 3 سے 4 فیصد اضافہ متوقع ہے جو ماضی کی نسبت کم ہے جبکہ اگلے سال طلب میں اضافہ تو ہوگا لیکن سولر کے بڑھتے استعمال کے باعث اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔

سولر کے غیر معمولی پھیلاؤ کے بعد پاکستان نے قطر کے ساتھ اپنے ایل این جی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت شروع کر دی ہے جبکہ اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی کچھ سپلائیز بھی منسوخ کی گئی ہیں۔

پاکستان کم قیمت، زیادہ لچکدار ڈیلیوری شیڈول اور ممکنہ طور پر کم مقدار کی درآمد چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی پر کام شروع، قیمتوں میں کتنی کمی کا امکان ہے؟

اگرچہ کوپ 30 میں قطر کے ساتھ باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے لیکن عائشہ موریانی کے مطابق کانفرنس نے توانائی وزرا اور تجارتی نمائندوں کے ساتھ سفارتی سطح پر گفتگو کا اہم موقع فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد اپنی گیس درآمدی حکمت عملی کو مالی گنجائش، بجلی کی طلب اور موسمی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: فلیٹس میں رہنے والے لوگ کیسے اور کتنے میں سولر سسٹم لگوا سکتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان استحکام اور مناسب قیمت چاہتا ہے ایل این جی انحصار میں مزید اضافہ نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک مصر مشترکہ مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط

پاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لئے کوششیں جاری

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو وائرل کرنے کا مقدمہ، فلک جاوید کی ضمانت منظور

پنجاب میں شرمپ فارمنگ کے انقلابی منصوبوں پر تیز پیشرفت، بنجر زمینیں معاشی زونز میں تبدیل

یورپ کی طرف سے اسرائیل کو سفارتی دھچکا، پابندیوں کا امکان بڑھ گیا: برطانوی اخبار دی گارڈین

ویڈیو

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

‘پاؤں نہیں مگر ہاتھ تو ہیں نا’، فور ویل بائیکیا چلا کر گھر کی کفالت کرنے والا باہمت نوجوان

کالم / تجزیہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی