راولپنڈی اڈیالہ جیل کے قریب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دھرنے کے مقام کے نزدیک گیس کی ایک مین پائپ لائن پھٹ گئی، جس کے باعث بڑے پیمانے پر گیس کا اخراج جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان اڈیالہ جیل سے منتقل نہیں ہوئے نہ ہی ان کی صحت خراب ہے، رانا ثنااللہ
پولیس نے فوری طور پر وزیراعلیٰ کے سکیورٹی اسکواڈ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا جبکہ ایس این جی پی ایل حکام کو بھی ہنگامی اطلاع دے دی گئی ہے۔
ریسکیو اور متعلقہ ادارے پائپ لائن کی مرمت اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں۔
گورکھپور ناکے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پولیس اہلکاروں کے ساتھ مختصر مکالمہ ہوا ہے۔
ساڑھے چار کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں، 8ویں مرتبہ یہاں آیا ہوں عمران خان سے کیوں نہیں ملنے دیا جا رہا، ایک صوبے کی تذلیل کیوں کی جا رہی ہے، کیا ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں، اندر جو بھی بیٹھا ہے اسے بتائیں۔ سہیل آفریدی pic.twitter.com/wqqaUYb9Ze
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) November 27, 2025
سہیل آفریدی نے پولیس اہلکاروں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 8ویں مرتبہ جیل آئے لیکن انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔
یہ بھی پڑھیں: مزید 4 ججوں کے استعفے تیار، سہیل آفریدی پارٹی کے لیے بہتر کیسے؟
انہوں نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ساڑھے 4 کروڑ عوام کے نمائندہ ہیں اور عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات سے روکے جانے پر انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اندر کون موجود ہے اور ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تحریری طور پر بتایا جائے کہ عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں ہو رہا اور راستہ روکنے کی وجہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ اس طرز عمل سے ایک صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر پیدا ہو رہا ہے اور یہ صورتحال ملک میں مزید فاصلے بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل اگر کسی اور صوبے میں کسی دوسرے رہنما کے ساتھ ایسا ہوا تو یہ کسی کے لیے بھی مناسب نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے اچھے کام کیے تو ہم حمایت کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
سہیل آفریدی نے کہا کہ میں ہربار آتا ہوں، شرافت سے بیٹھ جاتا ہوں، آپ کو بھی احساس کرنا چاہیے، بار بار پشاور سے اڈیالہ آنا اور پھر جانا، یہ افسوسناک ہے۔














