پنجاب اسمبلی کا اجلاس شدید سیاسی گرما گرمی اور الزامات کی گونج میں لڑکھڑا گیا۔ اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جعلی مقدمات اور کمزور ثبوتوں کی بنیاد پر ان کی جماعت کے ایم پی ایز کو نااہل کیا گیا،بائیکاٹ کے باوجود 5 فیصد ووٹ لے کر ایوان تک پہنچنے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان کے باہر بھی کشیدگی، اپوزیشن کے 2 ارکان کی رکنیت معطل
معین قریشی نے کہا کہ ملک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، کے پی اور بلوچستان میں افغان عناصر بھارت کے پراکسی کے طور پر مداخلت کررہے ہیں اور جب تک اندرونی اتحاد نہیں ہوگا بیرونی دشمنوں کا مقابلہ ممکن نہیں۔
اسمبلیز عوام کے نمائندے ہیں، ان کی بنیادی ذمہ داری مسائل حل کرنا ہے۔ اگر ممبرز صرف جھگڑے یا احتجاج کریں، گورننس اور اوور سائٹ چھوڑ دیں، تو یہ ناقابل قبول ہے۔ رائٹ ٹو ریپریزنٹیشن روکنا نہیں چاہیے، لیکن زیادتی کی صورت میں کارروائی ضروری ہے۔
ملک احمد خان , سپیکر پنجاب اسمبلی pic.twitter.com/USIEuIiEoq
— PMLN (@pmln_org) November 28, 2025
انہوں نے حکومت پر انتشار پھیلانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جارہی۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ کے پی وہ صوبہ ہے جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں، مگر دو تہائی اکثریت کے حامل وزیراعلیٰ کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، اپوزیشن رکن نے حکومتی رکن کو تھپڑ دے مارا
انہوں نے جیل مینوئل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منتخب ایم پی ایز کو جب چاہیں ملاقات کی اجازت ہوتی ہے، مگر چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلا اور اہلخانہ تک کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔
معین قریشی نے چینی کی قیمت 215 روپے تک پہنچنے، گیس و بجلی کے بلز، ڈینگی مریضوں کی بڑھتی تعداد اور ستھرا پنجاب منصوبے میں مبینہ کرپشن کا بھی ذکر کیا۔
23 نومبر کو عوام نے کارکردگی کو ووٹ دیا
جواب میں صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمان نے ایوان میں اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور پاکستان کے عوام اپوزیشن کا طرز عمل دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 23 نومبر کو عوام نے کارکردگی کو ووٹ دیا، دھاندلی کو نہیں۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ۔🚨
عمران خان قیدتنہائی کے خلاف اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کی قیادت میں بھرپور احتجاج ، pic.twitter.com/DjSvRXAEOw
— IK Today (@IKTodayPk) November 28, 2025
انہوں نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے لوگوں نے انتشار اور توڑ پھوڑ کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمن نے مزید کہا کہ ن لیگ کی قیادت پر جب جھوٹے مقدمات بنے تو بھی قانون کا احترام کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کے پی میں پی ٹی آئی کو عوامی سطح پر واضح شکست ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی: اپوزیشن کے 26 اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کا ریفرنس تیار
ایوان کا ماحول اس وقت مزید کشیدہ ہو گیا جب اپوزیشن نے نواز شریف کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی، جس پر اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔
دوسری جانب ن لیگ کے نواز شریف کے حق میں شیر آیا شیر آیا کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا اور اسپیکر کے آرڈر ان دا ہاؤس کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے۔
پنجاب اسمبلی میں چور چور کے نعرے، تحریک انصاف کے ارکان کا پنجاب اسمبلی میں احتجاج جاری!!! pic.twitter.com/rpexMB9eiY
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) November 28, 2025
اسپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کیے جانے کے باوجود ایوان میں شور شرابا جاری رہا اور صوبائی اسمبلی مکمل طور پر سیاسی اکھاڑے کی شکل اختیار کرگئی۔













