‘اولڈ از گولڈ’: سنہ 1950 کا جرمینیئم جدید سلیکان چپس کو پیچھے چھوڑ گیا

جمعہ 5 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے ایک ایسا مواد دریافت کیا ہے جو موجودہ سلیکان چپس سے بہت زیادہ تیز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی نے یورپ کا تیز ترین سپر کمپیوٹر ’جوپیٹر‘ لانچ کر دیا

یہ مواد جرمینیئم ہے جو سنہ 1950 کی دہائی میں بھی جانا جاتا تھا لیکن اب اسے جدید ٹیکنالوجی کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔

یہ مواد سلیکان کے ساتھ کام کرتا ہے اور الیکٹران کے ’چارج ہولز‘ کو بہت تیز حرکت دیتا ہے۔

اس مواد کی ’ہول موبیلیٹی‘ 7.15 ملین ہے جبکہ عام سلیکان چپس میں یہ صرف 450 ہے۔ الغرض یہ نئے چپس زیادہ تیز، کم توانائی استعمال کرنے والے اور مستقبل کے کوانٹم اور اے آئی آلات کے لیے موزوں ہیں۔

مزید پڑھیے: فلوپی ڈسکس اور ان میں چھپی بھولی بسری یادیں، کیا وہ خزانہ بچا لیا جائے گا؟

ڈاکٹر میکسیم میرونوف کا کہنا ہے یہ مواد تیز ہے اور عام سلیکان مینوفیکچرنگ کے ساتھ آسانی سے بنایا جا سکتا ہے جبکہ روایتی تیز سیمی کنڈکٹر مہنگے اور مشکل ہوتے ہیں۔

مستقبل میں استعمال

یہ نیا مواد تیز تر اور توانائی کی بچت کرنے والے کوانٹم ڈیوائسز بنانے میں مدد دے گا جو موجودہ سلکان ٹیکنالوجی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا، جے ڈی وینس

گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

آزاد کشمیر انتخابات کے لیے مزید 5 امیدواروں کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ جاری

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آئی بی ایم کا نیا کارنامہ: 100 ارب ٹرانزسٹرز کی گنجائش والی ناخن جتنی چپ

ویڈیو

آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

’پاکستان نے بطور ثالث دنیا میں امن پسندی کو تقویت دی‘، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

کالم / تجزیہ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا