بھارت میں احمد آباد کے ایک جوڑے کی 11 سالہ شادی پیاز اور لہسن کے استعمال پر ہونے والے معمولی جھگڑے کے باعث طلاق پر ختم ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق جوڑا 2002 میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوا تھا۔ شادی کے ابتدائی برسوں میں غذائی عادات کے فرق سے کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا۔ بیوی جو سوامی نارائن فرقے کی پیروکار ہے مذہبی عقیدے کے تحت پیاز اور لہسن کے استعمال سے مکمل پرہیز کرتی تھی جبکہ شوہر اور ساس ان اجزاء کو روزمرہ کے کھانوں میں استعمال کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: باپ نے جس بیٹی کو نہر میں ڈبویا، 68 دن بعد زندہ گھر پہنچ گئی
وقت کے ساتھ ساتھ یہ غذائی اختلاف گھریلو تنازع میں بدل گیا اور علیحدہ کھانا پکانے کا معمول قائم ہوگیا۔ گھریلو ماحول میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بیوی اپنے بچے کے ساتھ میکے منتقل ہوگئی۔ 2013 میں شوہر نے فیملی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ بیوی کا طرزِ عمل ’ظلم‘ کے مترادف ہے اور اس نے گھر کو بلا وجہ چھوڑ دیا لہٰذا طلاق دی جائے۔
2024 میں فیملی کورٹ نے شوہر کی درخواست منظور کرتے ہوئے طلاق کا حکم جاری کیا اور ساتھ ہی شوہر پر بیوی کو خرچہ ادا کرنے کی ذمہ داری عائد کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی شوہر دوسری شادی کی کوشش کر رہا ہے، پاکستانی خاتون کی نریندر مودی سے مداخلت کی اپیل
فیصلے کے خلاف بیوی نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ سماعت کے دوران بیوی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شوہر نے غذائی ترجیحات کے معاملے کو بلا وجہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جبکہ شوہر نے عدالت کو بتایا کہ پیاز اور لہسن کے استعمال کا مسئلہ مستقل جھگڑے کا سبب بنا رہا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ اور اس کی والدہ بیوی کے لیے بغیر پیاز و لہسن کے کھانے بنا کر بھی دیتے تھے مگر تنازع برقرار رہا۔
دورانِ سماعت بیوی نے آخرکار طلاق پر آمادگی ظاہر کر دی جس کے بعد شوہر نے بقایا خرچہ اقساط میں جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ باہمی رضامندی سامنے آنے پر ہائی کورٹ نے بیوی کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
یوں غذائی ترجیحات پر شروع ہونے والا اختلاف ایک دہائی پر مشتمل ازدواجی تعلق کے خاتمے پر ختم ہوا۔














