علیمہ خان نے مذاکرات سے متعلق کسی کے پاس اختیار نہ ہونے کی بات کیوں کی؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر محمود خان اچکزئی کے پاس مذاکرات کا مینڈیٹ موجود ہے تو انہیں بات چیت کرنی چاہیے، تاہم اگر علیمہ خان یہ کہہ رہی ہیں کہ کسی کے پاس یہ اختیار نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی نیا پیغام موصول ہوا ہوگا۔

راولپنڈی کے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ آج ملاقات کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں، لیکن ملاقات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق ملک پہلے ہی سنگین مسائل کا شکار ہے اور حالات مزید خراب ہو رہے ہیں، اس لیے سال کے اختتام سے قبل ملاقات ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: مذاکرات کی بات کرنے والوں کو عمران خان کا ساتھی نہیں کہا جا سکتا، علیمہ خان

انہوں نے کہاکہ بہنوں کی ملاقات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور بشریٰ بی بی کے اہلِ خانہ کو بھی ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ عوام کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے بارے میں آگاہی ملنی چاہیے کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اگر مقدمات کے فیصلے بروقت ہو جاتے تو سابق وزیراعظم آج باہر ہوتے۔ جب ایسا نہیں ہو سکا تو کم از کم ملاقات کا حق تو دیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ملاقاتیں روکے جانے سے عوام میں غلط تاثر جا رہا ہے اور معاشرے میں نفرت بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب تک یہ صورتحال برقرار رہے گی؟ ہر منگل کو یہاں آتے ہیں لیکن ملاقات نہیں ہونے دی جاتی، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اگر اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے تو مثبت خبریں سامنے آ سکتی ہیں، ایک بار یہ قدم اٹھا کر دیکھا جائے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سے متعلق گفتگو پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ اس معاملے پر علیمہ خان کا مؤقف سب کے سامنے ہے، اس لیے وہ مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق تحریری طور پر جو ہدایات موجود ہیں، ان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے واضح کیا تھا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس مذاکرات کریں گے۔

’اگر مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔ تاہم اگر کہا جا رہا ہے کہ کسی اور کو اختیار حاصل نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور پیغام آیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ چاہے مزاحمت کا راستہ ہو یا مفاہمت کا، بات چیت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ اگر پی ٹی آئی حکومت میں ہوتی تو معاملات کو مختلف انداز میں دیکھا جاتا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی بہنوں کو آج بھی ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، علیمہ خان نے دھرنا دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا موجودہ رویہ درست نہیں، حکومتیں اپوزیشن کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتی ہیں اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ پولیس موجود ہوتی ہے، ہم آتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، عدالتوں کے احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، جو حکومت کی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘