پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ملازمین کا کیا ہوگا؟ ایئرلائن خریدنے والے عارف حبیب نے بتا دیا

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی آئی اے کی 135 ارب روپے میں کامیاب بولی لگانے والے گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے کہا ہے کہ اس کامیابی سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ہمارا قومی ادارہ ہے اور اس نے ماضی میں بہت اچھے دن دیکھے ہیں، اس کے ملازمین باصلاحیت ہیں اور کام کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں، امید ہے کہ کمپنی میں نئی سرمایہ کاری سے ایئرلائن کے مسائل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے نجکاری: عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کو خرید لیا

عارف حبیب نے کہا ہے کہ ابتدا میں فلیٹ میں 18، 19 طیارے ہیں جن میں سے فعال 13 یا 14 ہیں، پہلے مرحلے میں انہیں 38 تک لے جائیں گے اور پھر ڈیمانڈ کے حساب سے بڑھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے ملازمین کو اعتماد دیں گے، ملازمین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے، کمپنی میں وسعت سے اور لوگوں کو بھی روزگار کے مواقع ملیں گے، کمپنی کو جس سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اگر وہ آئے گی تو بہت اچھی کارکردگی دکھائے گی۔

واضح رہے کہ آج ہونے والی بولی میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی حملے کو اعلان جنگ سمجھا جائےگا، ایرانی صدر نے خبردار کردیا

غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینا ہوں گے، ٹرمپ انتظامیہ نے 60 ممالک کو چارٹر بھیج دیا

اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ ایڈوائزری پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شامی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

ویڈیو

کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر دوسرے روز بھی قابو نہ پایا جا سکا، 6 افراد جاں بحق، عمارت کے کئی حصے منہدم

مردان جیل کے قیدی ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ کمائی بھی کرنے لگے، مگر کیسے؟

کشمیری وازوان، ذائقوں کی روایت اور تاریخ

کالم / تجزیہ

منٹو کا ہم راہی

مصدق سے مادورو تک

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے