خبردار! کسی خاتون نے اسمارٹ فون استعمال کیا، پنچایت کا چونکا دینے والا فیصلہ

بدھ 24 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راجستھان کے ضلع جالور کے ایک گاؤں کی پنچایت نے ایک متنازع فیصلہ کرتے ہوئے 15 دیہات میں بہوؤں اور نوجوان خواتین کے اسمارٹ فون بالخصوص کیمرہ فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پنچایت کے فیصلے کے مطابق یہ پابندی نہ صرف گھروں تک محدود ہوگی بلکہ شادیوں، سماجی تقریبات اور پڑوسیوں کے گھروں میں آمد و رفت کے دوران بھی اسمارٹ فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم اسکول جانے والی لڑکیوں کو تعلیمی مقاصد کے لیے گھر کے اندر موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن وہ انہیں عوامی مقامات یا تقریبات میں ساتھ نہیں لے جا سکیں گی۔

یہ فیصلہ غازی پور گاؤں میں چودھری برادری کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت 14 پٹیوں کے صدر سوجن رام چودھری نے کی۔ اس موقع پر پنچ ہمت رام نے پنچایت کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا۔ یہ پابندی 26 جنوری سے نافذ العمل ہوگی جس کے تحت خواتین صرف کی پیڈ موبائل فون استعمال کر سکیں گی۔

سوجن رام چودھری نے کہا کہ پنچایت اور برادری کے ارکان کے مابین تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں پر موبائل فون کے منفی اثرات خصوصاً آنکھوں کی صحت کو لاحق خدشات سے بچاؤ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’سابق مس انڈیا کو شوہر نے دھمکی دی کہ تمہارا چہرہ بگاڑ دوں گا‘، وکیل کا انکشاف

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض خواتین اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں کے دوران بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل فون دے دیتی ہیں جس کے باعث بچے طویل وقت تک اسکرین کے سامنے رہتے ہیں۔ پنچایت کے مطابق یہی صورتحال اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنی۔

واضح رہے کہ پنچایت کے اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید اور مخالفت بھی سامنے آ رہی ہیں کئی صارفین نے کہا کہ اس کا اطلاق خواتین کے بجائے لڑکوں پر کرنا چاہیے جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان اسے خواتین کی آزادی اور شخصی حقوق سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp