اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی توہین قابل مذمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنا بھی ناقابل قبول ہے۔ اس واقعے کے بعد ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور واقعے کے تمام مقامات دیکھے گی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر نے سوال اٹھایا کہ اس مائنڈ سیٹ کے پیچھے کون ہے؟ اور کہا کہ جو لوگ مدینہ منورہ میں کچھ سمجھ نہیں پاتے، وہ پنجاب اسمبلی کی کیا اہمیت رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: کور کمانڈر ہاؤس کے باہر احتجاج، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی سمیت دیگر ملزمان بری
ملک احمد خان نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ سیاسی جماعتیں وفاق کو مضبوط کرتی ہیں، اور ان کی جڑیں پورے ملک میں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے برقرار رہنے چاہئیں۔
انہوں نے اسمبلی میں سیکیورٹی کے معاملات پر بھی سختی سے کہا کہ کسی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور شناختی کارڈ کے بغیر کوئی بھی اسمبلی میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ اسمبلی میں کسی مہمان کے داخلے کے لیے اجازت ضروری ہے اور رولز کے آگے اسپیکر بھی اجازت نہیں دے سکتا۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی میں نواز شریف کا بیان اہمیت کا حامل ہوگا، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
ملک احمد خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا ایوان میں خیر مقدم کیا اور کہا کہ پنجاب اسمبلی میں کے پی کے اسمبلی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کے پی کے اسمبلی میں خواتین پر تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
اسپیکر نے زور دیا کہ ایوان کی کارروائی رولز کے مطابق چلائی جاتی ہے اور تمام ممبران کو اس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف مقدمات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے 9 مئی کے واقعات پلان کے تحت اداروں اور کور کمانڈروں کے گھروں پر حملے کیے اور انہیں آگ لگائی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی کی کارروائی رولز کے مطابق چلائی جاتی ہے اور اسمبلی میں کسی مہمان کے داخلے کے لیے اجازت ضروری ہے۔ ملک احمد خان نے کہا کہ رولز کے آگے اسپیکر بھی اجازت نہیں دے سکتا اور ہر فعل قانون کے تابع ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آمد پر انہیں خوشی ہوئی اور ایوان میں ان کا خیرمقدم کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ڈرائیونگ لائسنس کے لیے عمر کی حد 16 سال مقرر کی جائے، پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع
ملک احمد خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بات کرنے کے دوران خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے، اور ایوان میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی جمہوری لوگوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور اسے کسی بھی ’ماسی ویہڑا‘ کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔
اسپیکر نے آئین کے احترام پر زور دیا اور کہا کہ وہ آئین کا بہت احترام کرنے والا شخص ہیں اور اسمبلی میں ہر کام قانون اور قواعد کے مطابق ہونا چاہیے۔
اسپیکر نے بتایا کہ کے پی وزیر اعلیٰ کی آمد پر کچھ افراد نے بدتمیزی کی، جن میں بعض لوگ ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ گاڑیوں کو نذر آتش کرتے اور انسانوں پر حملہ کرتے ہیں۔
اسپیکر نے سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ایک خراب مائنڈ سیٹ کی علامت ہے، جس میں ایوان اور مقدس مقامات کا تقدس نہیں سمجھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ میں اونچی آواز میں بولنا بے ادبی ہے، لیکن پنجاب اسمبلی میں بھی نعرہ بازی ہوئی۔














