سال 1996 میں کراچی کی 4 خواتین نے گھر کی بیٹھک سے جھگیوں اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے بچوں کو تعلیم دینے کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے مفت کھانا
آج 30 برس ہونے کو ہیں بیٹھک اسکول سسٹم نے اب تک 50 ہزار سے زائد بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کردیا ہے۔
یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچےاور بچیاں آج ڈاکٹرز، انجینیئرز اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بن چکے ہیں۔ آج اندرون سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 140سے زائد اسکول 20 ہزار بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں۔
شام کا اسکول لیکن محنت کش بچوں کے لیے نئی صبح کا پیغام
پاکستان میں بہت سے بچے غربت کی وجہ سے صبح اسکول نہیں جا پاتے۔ کوئی ورکشاپ پر کام کرتا ہے، کوئی چائے کے ہوٹل پر اور کوئی کسی دکان میں مزدوری کرتا ہے۔ ایسے ہی بچوں کے لیے بیٹھک اسکول بنایا گیا ہے۔
یہ اسکول شام کے وقت چلتے ہیں تاکہ جو بچے دن میں کام کرتے ہیں وہ شام کو آ کر پڑھ سکیں، لکھ سکیں اور کچھ بن سکیں۔
بیٹھک اسکول میں تعلیم، کتابیں مفت
بچوں کو کتابیں، یونیفارم اور اسٹیشنری بھی دی جاتی ہے تاکہ ان کے والدین پر بوجھ نہ پڑے۔
یہاں کے اساتذہ بچوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں اور انہیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ اچھی عادتیں، اخلاق اور زندگی کے ہنر بھی سکھاتے ہیں۔
آج بیٹھک اسکول کے سینکڑوں کیمپس ہیں جہاں ہزاروں بچے شام کے وقت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: نواز شریف اسکول آف ایمیننس: طلبا کے لیے مکمل فری ایجوکیشن پیکیج متعارف
یہ اسکول ان بچوں کے لیے امید کی کرن ہیں جو محنت کے باوجود سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔













