نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں پاکستان کی اقتصادی اور ترقیاتی پالیسی سازی میں منصوبہ بندی کمیشن کے تاریخی اور مرکزی کردار پر روشنی ڈالی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ اسٹریٹجک پالیسی سازی، ترجیحات کے تعین اور سرکاری سرمایہ کاری کی مؤثر نگرانی کا کردار ادا کر سکے۔
یہ بھی پڑھیے: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے پاکستان کے سفیر برائے روس فیصل نياز ترمذی کی ملاقات
انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو وزیرِاعظم کی براہِ راست قیادت میں ایک اعلیٰ ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے، جس کے تحت پالیسی و منصوبہ بندی ونگ اور علیحدہ ترقیاتی ونگ قائم کیے جائیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تمام بڑے اقتصادی فیصلے قومی اقتصادی حکمتِ عملی کے مطابق ہونے چاہئیں، جبکہ واضح کلیدی کارکردگی اشاریے (KPIs) مقرر کیے جائیں تاکہ حکومتی سطح پر جوابدہی، کارکردگی اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو اقتصادی فیصلوں کے لیے مرکزی کلیئرنگ ہاؤس کا کردار ادا کرنا چاہیے، جو وزارتوں اور ڈویژنز کو پالیسی میں یکسانیت اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرے، ساتھ ہی پاکستان کی اقتصادی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے پائیدار اصلاحات کی معاونت کرے۔
یہ بھی پڑھیے: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے خزانہ، منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات، موسمیاتی تبدیلی، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریونیو، وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری منصوبہ بندی، قومی کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔














