کچھ کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہیں، وفاقی وزیر خزانہ کا اعتراف

بدھ 14 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کے لیے سنجیدہ مسائل ہیں

پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے  وفاقی وزیر خزانہ کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کے حوالے کر دیا ہے تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی بنیادی توجہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہونی چاہیے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ٹیرف کے شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کروائی ہیں کیونکہ برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنے کے لیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کے لیے سنجیدہ مسائل ہیں۔ ہم جتنی ڈیوٹیز بڑھاتےجائیں تو یہ ہمارے لیے نقصان ہے، ہمیں ڈیوٹیز کو معقول بنانا ہوگا اورکاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے وفاقی حکومت قرض لے کر ریلیف دے رہی ہے، اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جائیں گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق معاشی اصلاحات کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جبکہ رواں سال 41 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہونے کی توقع ہے جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر عائد ڈیوٹیز میں کمی کی گئی ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے مقامی سرمایہ کاروں کے آگے آنے سے بیرونی سرمایہ کاری بھی آئےگی، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کے لیے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہو سکتی ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قرضوں کی ادائیگی خود بخود کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے حکومت نے سخت اور ضروری اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی جبکہ اب تک 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ ان اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں شدید کرپشن سامنے آئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی اسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کرلیا گیا، طارق فضل چوہدری

جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان

عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق خبروں پر پی ٹی آئی کا اظہار تشویش

ٹی 20 ورلڈ کپ، جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر سپر8 کے لیے کوالیفائی کرلیا

ہائی وولٹیج ٹاکرا: پاکستانی اسپنرز نے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا

ویڈیو

ہائی وولٹیج ٹاکرا: پاکستانی اسپنرز نے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا

مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو دوبارہ سبز بنانے کی مہم کا آغاز

کیا امریکا نے بنگلہ دیش کو دھمکی دی؟ الیکشن میں جنریشن زی کیوں ناکام رہی؟

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟