ٹرمپ کا ایران کیخلاف فیصلہ کن مگر محدود فوجی کارروائی پر غور

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو وہ ایسی ہونی چاہیے جو تیزی سے اور فیصلہ کن انداز میں اثر دکھائے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کسی غیر یقینی اور طویل عسکری تصادم کے حق میں نہیں، جو ہفتوں یا مہینوں پر محیط طویل جنگ میں بدل جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران بحران: مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے ابھی تک اس بات کی ضمانت نہیں دی کہ امریکی حملے کی صورت میں ایرانی حکومت فوری طور پر کمزور یا ختم ہو جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کو اس خدشے کا بھی سامنا ہے کہ خطے میں موجود فوجی وسائل فی الحال ایران کے ممکنہ سخت ردعمل سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر کافی نہیں۔

انہی وجوہات کے باعث اگر صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو ابتدا میں محدود نوعیت کے حملوں کی منظوری دی جا سکتی ہے، جبکہ حالات کے مطابق کارروائی میں وسعت کا راستہ کھلا رکھا جائے گا۔

تاہم امریکی حکام کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

این بی سی نیوز سکے مطابق صدر ٹرمپ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی

ان کے قریبی افراد کے مطابق اگر صدر کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ واضح اور حتمی ہو۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے باعث حکومت کمزور ہو سکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں اقتدار کا خاتمہ یقینی نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں بھی شکوک کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: ایران-اسرائیل جنگ سے ٹرمپ کو دور رہنا چاہیے، امریکا کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں قابلِ اعتماد ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف ہلاکتیں رک گئی ہیں اور ممکنہ پھانسیوں کا منصوبہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہی وہ اقدامات تھے جو امریکی فوجی ردعمل کا سبب بن سکتے تھے، تاہم امریکا فی الحال صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کی ہدایات کی روشنی میں مختلف فوجی آپشنز تیار کر لیے ہیں، جنہیں حالیہ دنوں میں مزید بہتر اور اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران-اسرائیل کشیدگی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ماگا تحریک منقسم ہوگئی

ان منصوبوں میں ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی، امریکی افواج، اتحادی ممالک اور خاص طور پر اسرائیل کو لاحق خطرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

خطے میں احتیاطی اقدامات کے تحت قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید سے سینکڑوں امریکی فوجیوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں امن بحال، لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات فوجیوں، شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ امریکا نے ایران کے خلاف کسی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے لیے اضافی افواج تعینات نہیں کیں، تاہم خطے میں موجود امریکی فضائی، بحری اور زمینی وسائل محدود یا ہدفی حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

راولاکوٹ: کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی فائرنگ، 4 سیکیورٹی اہلکار شہید

مہاجرین کی نشستیں کشمیر کاز کی علامت، ختم کرنے کا مطالبہ کیوں؟ کالعدم ایکشن کمیٹی کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے

قومی کرکٹ اکیڈمی کے ریڈ بال اور وائٹ بال کیمپس کا اعلان، 49 کھلاڑیوں کو طلب کرلیا گیا

افغانستان کو شکست: پاکستان 35 سال بعد ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ گیا

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، بھارتی سرپرستی میں سرگرم 27 دہشتگرد ہلاک

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: شہری دشوار گزار راستوں کے باوجود ووٹ کاسٹ کرنے نکل پڑے

گلگت بلتستان: انتخابی نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مقابلہ، پی ٹی آئی کو شکست

پھلوں کے بادشاہ کی آمد، خوشبو سے بازار مہک اٹھے

کالم / تجزیہ

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ