خیبر پختونخوا میں خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کے معائنے اور فائر سیفٹی قوانین کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے چیف پلاننگ کنٹرول افسران اور متعلقہ اداروں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اتھارٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کراچی کے گل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جس سے بلڈنگ سیفٹی قوانین کے سخت نفاذ کی فوری ضرورت واضح ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے
خط میں چیف پلاننگ کنٹرول افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کا تفصیلی معائنہ کریں اور جن عمارتوں کی حالت تسلی بخش نہ ہو، انہیں انسانی رہائش کے لیے غیر موزوں قرار دیا جائے۔
لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق ہنگامی حالات میں عمارتوں سے محفوظ انخلا کے لیے مناسب راستوں کی موجودگی ناگزیر ہے۔ خاص طور پر کمرشل اور بلند عمارتوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور ان میں مؤثر اور مناسب فائر سیفٹی نظام کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ آتشزدگی: کراچی نہیں، پورے پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام عمارتوں میں فائر الارم سسٹمز، آگ بجھانے کا مؤثر سامان، ہنگامی انخلاء کے لیے سیڑھیاں، راہداریاں اور دیگر ضروری انتظامات لازمی ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز اور سول ڈیفنس کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔














