پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مبینہ دہرے معیار پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے پاکستان کے دورے سے متعلق بھارتی سیکیورٹی تحفظات کو تو سنجیدگی سے لیا، مگر بنگلا دیش کے معاملے میں وہی رویہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیے: آئی سی سی کا دوہرا معیار، بنگلہ دیش کا ساتھ دینے پر پاکستان کو تنہائی کی دھمکی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ عالمی کرکٹ کی حکمرانی تسلسل، انصاف اور برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے، لیکن امتیازی فیصلے نہ صرف اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ کھیل کی اصل روح کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئی سی سی کو اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے کرکٹ کی دنیا میں رابطے اور اتحاد کا ذریعہ بننا چاہیے۔
ادھر عالمی کرکٹرز ایسوسی ایشن نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کی بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی کرکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش کی عالمی ایونٹ میں عدم شمولیت کرکٹ کے لیے ایک افسوسناک لمحہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام شراکت داروں کو کھیل کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کی غیر موجودگی نہ صرف وہاں کے کھلاڑیوں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ، بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے پر جیسن گلیسپی نے سوالات اٹھا دیے
دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے آئی سی سی کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے، تاہم اس فیصلے پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔














