وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟

ہفتہ 31 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ریاستی اداروں کے خلاف الزامات لگانے کے کیس میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟

پاکستان تحریک انصاف کے مطابق وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی کے خلاف مقدمات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ کیس کی اگلی سماعت 10 فروری کو ہو گی۔

سہیل آفریدی کے خلاف کتنے مقدمات ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف لائر ونگ کے مطابق سیاسی مخالف حکومت سہیل آفریدی کے خلاف کیسز بنا رہی ہے تاکہ انہیں عدالتی معاملات میں الجھایا جا سکے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے البتہ اسلام آباد میں کیسز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے علم میں 2 کیسز ہیں جن میں سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے‘۔

شاہ فیصل نے بتایا کہ ایک کیس اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ہے جبکہ ایک کیس حالیہ دنوں میں درج ہوا ہے۔ اے جی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ انہوں نے ہائیکورٹ میں درخواست دی ہے کہ پولیس وزیراعلیٰ کے خلاف درج کیسز کی تفصیلات فراہم کرے۔

مزید پڑھیے: منتیں، چیخیں اور سپریم کورٹ کے باہر کا منظر، سہیل آفریدی پریشان، مریم نواز نے سب کو ہلا دیا

ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ کیسز کی تفصیلات دی جائیں۔”

ریڈیو پاکستان ویڈیو میں سہیل آفریدی کی شناخت

ریڈیو پاکستان کیس میں ویڈیو کی فرانزک رپورٹ میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ریڈیو پاکستان کے وکیل کے مطابق پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وزیراعلیٰ کو ایف آئی آر میں نامزد کرے۔

ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق ویڈیو پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی تھی جس میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر پولیس نے سہیل آفریدی کو نامزد نہیں کیا تو وہ عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔

وزیراعلیٰ کے خلاف کیسز، کیا سہیل آفریدی مشکل میں ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف لائر ونگ کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف کیسز سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کیسز سے سہیل آفریدی کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں ہو گا۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق ان کیسز سے سہیل آفریدی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

قانون دان اور ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق ایف آئی آر میں نامزدگی اور عدالتی کیسز وزیراعلیٰ ہو یا کوئی سرکاری ملازم، سب کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں قانون کی نظر سے دیکھتا ہوں، اور اگر کیسز مضبوط ہوں تو کرسی کے لیے خطرہ ہوتا ہے‘۔

مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

شبیر حسین نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کیس میں ویڈیو کی فرانزک رپورٹ میں سہیل آفریدی کی تصدیق ہوئی ہے اور یہ ایک سنگین کیس ہے جس میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، تشدد اور حملے کی دفعات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جائیں اور شواہد کافی ہوں تو سزا ہو سکتی ہے جس سے کرسی بھی جا سکتی ہے‘۔

شبیر حسین گیگیانی نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں اور حملے کی ویڈیوز اور فرانزک رپورٹ بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فیصلے موجود ہیں جہاں صرف ویڈیوز کی بنیاد پر سزا ہوئی ہے تو ریڈیو پاکستان کیس میں بھی ویڈیوز اور رپورٹ موجود ہے جس میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کیس میں کسی بھی پبلک آفس ہولڈر کو سزا ہوتی ہے تو وہ اپنے عہدے سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر وزیراعلیٰ کو بھی کسی کیس میں سزا ہوتی ہے تو وہ نااہل ہو جائیں گے اور الیکشن کمیشن ان کی رکنیت ختم کر دے گا۔

عثمان دانش پشاور کے کورٹ رپورٹر ہیں اور سہیل آفریدی کے خلاف کیسز کی عدالتی کارروائی کور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی کیس کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں ریڈیو پاکستان کیس کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا تھا تاہم فرانزک رپورٹ آنے کے بعد پی ٹی آئی کے وکلا نے بھی اسے سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو بھٹو کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہوئی تھی جو بعد میں پھانسی کی سزا پر منتج ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کیسز سیاسی نوعیت کے ہو سکتے ہیں مگر ان کی سماعت باقاعدگی سے ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وادی تیراہ میں آپریشن کی اجازت کس نے دی، اور سہیل آفریدی کو قتل کی دھمکیوں میں کتنی حقیقت ہے؟

اصل بات گواہوں اور شواہد کی ہے اور اکثر کیسز میں سزا لوئر کورٹ سے ہی ہو جاتی ہے۔

عثمان دانش نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کئی منتخب اراکین کو اسی نوعیت کے کیسز میں سزا ہو چکی ہے جن میں جلاؤ گھیراؤ، حملہ اور تشدد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور ایم این اے این اے ون عبداللطیف کو بھی ایسے ہی کیسز میں سزا ہوئی، عمر ایوب کے حلقے میں دوبارہ انتخابات ہوئے اور پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اس لیے پولیس آزادانہ کام شاید نہ کر سکے، لیکن اسلام آباد اور دیگر شہروں میں درج کیسز زیادہ خطرناک ہیں۔

مزید پڑھیں: مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں کو بھی اسلام آباد اور دیگر شہروں میں درج مقدمات میں سزا ہوئی ہے، اور سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں درج کیسز سے انہیں زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو کیسز ہیں، جبکہ کتنے مزید کیسز ہیں، اس کا علم پی ٹی آئی کو بھی نہیں۔ انہوں نے مزید کہ یہ کیسز ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: دہشتگردی پر پی ٹی آئی کا خطرناک مؤقف، سہیل آفریدی کا اگلا ہدف کیا ہوگا؟

عثمان دانش کے مطابق سہیل آفریدی کے طاقتور حلقوں کے ساتھ تعلقات بھی بہتر نہیں ہیں اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو یہی کیسز ان کی کرسی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جس کا سہیل آفریدی کو بھی بخوبی اندازہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

لڑکی کی شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر، پنجاب اسمبلی میں بل کثرت رائے سے منظور

وزارت اطلاعات نے کنڑ میں مبینہ حملوں سے متعلق افغان پروپیگنڈے کو مسترد کردیا

پشاور زلمی کے اشتراک سے پی ایس ایل میں پہلی بار پشتو کمنٹری متعارف

عالمی فوجی اخراجات 2025 میں بڑھ کر 2887 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟