خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی نے بھارتی قومی ترانہ گانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر شعبۂ فارمیسی کے چار طلبہ کو جامعہ اور ہاسٹل سے نکال دیا۔ انتظامیہ کے مطابق کارروائی ڈسپلنری کمیٹی کی رپورٹ اور انکوائری کی روشنی میں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:انٹر یونیورسٹی ڈیجیٹل کانٹینٹ مقابلہ عالمی یومِ ریڈیو کے موقع پر اختتام پذیر
باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے 4 طلبہ کو جامعہ سے نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف ایکشن ڈسپلنری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں لیا گیا۔ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق طلبہ کے خلاف کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بھارت کا قومی ترانہ گاتے اور مبینہ طور پر ریاست کے خلاف سمجھے جانے والے نعرے لگاتے دکھائی دیے۔

یونیورسٹی نے ڈسپلنری کمیٹی کی سفارش پر طلبہ کو جامعہ اور ہاسٹل قواعد کی خلاف ورزی پر نکالا اور باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔ نوٹیفکیشن میں طلبہ کی حرکت کو بدامنی پھیلانے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا گیا۔ پرووسٹ آفس نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے طلبہ کی ہاسٹل رہائش منسوخ کر دی اور انہیں فوری طور پر کمرے خالی کرنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق واقعہ 2 روز قبل یونیورسٹی کے ایک فیسٹیول کے دوران پیش آیا تھا، تاہم ویڈیو آن لائن وائرل ہونے کے بعد ہی باضابطہ انکوائری شروع کی گئی۔ سوشل میڈیا پر فوٹیج کے بعد شدید بحث چھڑ گئی، جس کے نتیجے میں تادیبی کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:مبینہ طور پر نشے میں ہونے کے سبب سندھ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر معطل، ویڈیو وائرل
یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خان عالم نے خود انکوائری کی نگرانی کی اور معاملے کو حساس قرار دیا۔ ان کے مطابق ریاست کے خلاف اقدامات ناقابلِ برداشت ہیں، اسی لیے انکوائری مکمل ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔














