مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت نے ایک متنازع تجویز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت وسیع علاقوں کو ’ریاستی ملکیت‘ کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق 1967 میں قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اس نوعیت کا اقدام کیا ہے، جسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ قابض طاقت مقبوضہ علاقے کی زمین ضبط نہیں کرسکتی۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل مغربی کنارے میں نسل پرستی کا نظام نافذ کر رہا ہے، سابق موساد چیف
یہ پیش رفت اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے اتوار کو رپورٹ کی۔ اسی روز غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ سے منظور شدہ اس تجویز کو وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ، وزیر انصاف یاریو لیون اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیش کیا۔ اسموٹریچ نے کہا کہ ’ہم اپنی تمام زمینوں پر کنٹرول کے لیے بستیوں کے انقلاب کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
فلسطینی صدارتی دفتر نے فیصلے کو ’سنگین اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور طے شدہ معاہدوں کے منافی ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ اراضی کو یہودی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا اسرائیلی اقدامات پر سخت ردعمل
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام درحقیقت مقبوضہ علاقے کے عملی الحاق (ڈی فیکٹو اینیکسیشن) کے مترادف ہے، جس سے غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کی راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود غزہ میں جھڑپیں جاری ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 601 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیل نے اسی عرصے میں اپنے 4 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔














