پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے دنیا کو یہ بھی بتایا کہ طالبان رجیم بھارت کی ایک پراکسی بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی سے خوفزدہ افغانستان نے قطر کا دروازہ کھٹکھٹا لیا
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جمعے کی صبح پاکستان کی جانب سے کابل میں فضائی حملوں کے چند گھنٹوں بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2021 میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد توقع تھی کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا اور طالبان افغان عوام اور علاقائی استحکام پر توجہ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا ہے اور وہ دہشتگردی برآمد کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ طالبان بھارت کے پراکسی بن چکے ہیں اور پاکستان نے افغانستان کے ساتھ استحکام کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔
دوسری جانب طالبان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جبکہ بھارت نے حالیہ پاکستانی فضائی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بیان میں کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں افغان سرزمین پر حملے قابل مذمت ہیں اور یہ پاکستان کی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھا ہے؟ اور افغانستان میں بھارت کا اصل ہدف کیا ہے؟
بھارت اور طالبان: تعلقات میں تبدیلی کیسے آئی؟
سنہ1996 میں جب طالبان پہلی بار اقتدار میں آئے تو بھارت نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور ان سے سفارتی تعلقات منقطع رکھے۔ اس وقت نئی دہلی طالبان کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا حمایت یافتہ سمجھتا تھا۔
سنہ2001 میں امریکا کی قیادت میں افغانستان پر حملے کے بعد طالبان حکومت ختم ہوئی اور بھارت نے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا۔ اس دوران بھارت نے حامد کرزئی اور بعد ازاں اشرف غنی کی حکومتوں کی بھرپور حمایت کی۔
تاہم اگست 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد بھارت نے ابتدا میں اپنا سفارت خانہ بند کیا مگر ایک سال بعد اس نے تکنیکی ماہرین کی ٹیم کابل بھیج کر دوبارہ سفارتی سرگرمیاں شروع کیں۔ اکتوبر 2025 میں بھارت نے کابل میں اپنا سفارت خانہ باضابطہ طور پر دوبارہ کھول دیا۔
مزید پؑڑھیں: طالبان رجیم غیر قانونی و غیر نمائندہ حکومت اور دہشتگردوں کی پشت پناہ ہے، عطا اللّٰہ تارڑ
طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دبئی اور بعد ازاں نئی دہلی میں بھارتی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ دونوں ممالک نے قریبی رابطے اور مسلسل مشاورت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
انسانی امداد اور ترقیاتی تعاون
طالبان حکومت کے دوران بھی بھارت نے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کی۔
نومبر میں آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے کے بعد بھارت نے خوراک، ادویات اور ویکسین فراہم کیں۔
دسمبر 2025 میں بھارت نے افغانستان میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبوں کی منظوری دی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اب نظریاتی اختلافات کے بجائے عملی حکمت عملی اپناتے ہوئے طالبان سے روابط رکھ رہا ہے تاکہ خطے میں پاکستان اور چین کو مکمل برتری حاصل نہ ہو۔
کیا یہ نئی پالیسی ہے؟
درحقیقت افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ طالبان کی واپسی سے پہلے ہی بڑھ چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پاک افغان عسکری طاقت کا موازنہ: وطن عزیز کی طالبان رجیم پر ہر لحاظ سے سبقت
سنہ 2001 اور سنہ 2021 کے دوران بھارت نے افغانستان میں 3 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جس میں کابل میں نئی پارلیمنٹ کی عمارت، زرنج دلارام شاہراہ (218 کلومیٹر)، سلمیٰ ڈیم (290 ملین ڈالر منصوبہ) اور اسکول، اسپتال اور دیگر ترقیاتی منصوبے شامل تھے۔
سنہ 2011 میں بھارت اور افغانستان نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدہ بھی کیا تھا۔ اسی دوران پاکستان کو کابل اور نئی دہلی کی بڑھتی قربت پر تشویش رہی۔
بھارت طالبان سے تعلقات کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں پاکستان اور طالبان کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی، افغانستان میں چین کے بڑھتے اثر کا توازن، خطے میں سیکیورٹی مفادات کا تحفظ اور پاکستان کے ساتھ جاری اسٹریٹجک رقابت شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا جی ایچ کیو کا دورہ، پاک افغان صورتحال پر بریفنگ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’دشمن کا دشمن دوست‘ والی منطق اس وقت کابل اور نئی دہلی کے تعلقات کو تقویت دے رہی ہے۔
بھارت کا حتمی ہدف کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق بھارت افغانستان میں پاکستان اور چین کو مکمل برتری حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے، سیکیورٹی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے اور خطے میں اپنا سفارتی اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ایک سابق بھارتی سفارتکار کے مطابق طالبان قیادت اگرچہ یکساں سوچ نہیں رکھتی مگر وہ پاکستان کی فوجی قیادت کے مکمل زیر اثر نہیں ہے۔
یہاں یہ ضرور واضح ہے کہ بھارت نے عملی سیاست اختیار کرتے ہوئے افغانستان میں اپنے مفادات کو برقرار رکھنے اور وسعت دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
مزید پڑھیے: ملک بھر میں کمرشل اور پرائیویٹ ڈرون کی اڑان پر پابندی عائد
خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی بساط میں افغانستان ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلے کا میدان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔













