سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے 10 ارب روپے ہرجانہ کیس میں حقِ دفاع ختم کرنے کے معاملے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت ایک مرتبہ پھر ملتوی ہوگئی۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل راشد حفیظ کے معاون نے عدالت کو بتایا کہ راشد حفیظ اس وقت لندن میں ہیں اور انہوں نے کیس آئندہ ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی سے متعلق 13 مقدمات کی سماعت آج، اہم اپیلیں مقرر
اس موقع پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آج درخواست گزار کو سن لیتے ہیں اور آئندہ سماعت پر دوسرے فریق کو سن لیا جائے گا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جواب جمع کرانے کے لیے کئی مرتبہ وقت دے چکی تھی۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ 4 سال بعد دعوے کا جواب جمع کروایا گیا، کیا اتنی تاخیر کے بعد بھی عدالت سخت حکم جاری نہ کرتی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی سے متعلق 13 مقدمات کی سماعت آج، اہم اپیلیں مقرر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے وکیل کو ہدایت کی کہ دلائل دیتے ہوئے نظرثانی کے دائرہ اختیار کو بھی ذہن میں رکھا جائے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی زخمی تھے اور اسپتال میں زیر علاج تھے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں زخمی ہونے کے نکتے پر کوئی رائے نہیں دی گئی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا ترامیم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا
بیرسٹر علی ظفر کے مطابق سول کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو 8 نومبر تک بیانِ حلفی جمع کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم 3 نومبر 2022 کو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے باعث وہ زخمی ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت نے 8 اور 17 نومبر کی سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کو تسلیم بھی کیا، مگر 22 نومبر 2022 کو حقِ دفاع ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سزائے موت کا مقدمہ نہیں کہ حق دفاع بحال ہونے سے کوئی مسئلہ پیدا ہو، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث وکلا کو اسپتال میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: شہباز شریف کا عمران خان پر 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس، اسپیکر پنجاب اسمبلی گواہ بن گئے
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے، بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے سول کورٹ کو کیس میں مزید کارروائی سے روکنے کا حکم دیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پانامہ کیس سے پیچھے ہٹنے کے بدلے 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔
جس پر شہباز شریف نے 2017 میں ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔














